سٹی 42: پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے لانگ مارچ کا بھی اعلان کیا ساتھ ہی رابطوں اور مذاکرات کرنے کی بھی حامی بھر لی ۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا پی ٹی آئی قیادت اور پارلیمانی پارٹی کی ملاقاتیں ہوئیں، بعد ازاں پریس کانفرنسز بھی کی گئیں، معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے کے لیے ہمیشہ کوشش کی مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا ۔ انصاف نہ ملے، بات نہ سنی جائے اور مطالبات کو ایڈریس نہ کیا جائے۔ تو صرف احتجاج نہ کرنے کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو اور ملاقاتوں و علاج کے معاملات بھی حل نہ کیے جائیں تو حالات کیسے بہتر ہوں گے، جمہوری معاشروں میں بہتری زبانی دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ریاست سنجیدہ ہے تو عملی اقدامات کرے، ہمیں محسوس ہونا چاہیے کہ ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ان شاء اللہ ضرور ہوگا، مکمل طور پر پرامن ہوگا۔
ہم اسلام آباد کی طرف آئیں گے، اسلام آباد میں داخلے کے بعد بھی پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا، لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا اسٹال لگے ہوں گے میلے کا سماں ہوگا۔ پی ٹی آئی نے مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، رابطے آج بھی موجود ہیں۔ بانی چیئرمین کے خاندان کی خواتین اور پارٹی کارکنوں سے متعلق اقدامات پر ہمارے تحفظات ہیں۔ ریاست کو اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، موجودہ صورتحال سے ریاست اور جمہوریت کو نقصان ہوگا ۔
پاکستان ہمارا ہے اسلام آباد بھی ہمارا ہے ہمیں ووٹ دینے والے عوام کے راستے میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں، پی ٹی آئی نے رابطوں اور مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، جب تک انصاف نہیں ملتا اور بنیادی مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔