ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہسپتالوں کیلئے سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

ہسپتالوں کیلئے سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کے لیے 24 سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے خلاف درخواست سیکرٹری صحت پنجاب کے بیان کی روشنی میں نمٹا دی۔

جسٹس خالد اسحاق نے شہری محمد سلیم اکبر سکھیرا کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت سیکرٹری صحت پنجاب عدالت میں پیش ہوئے اور حکومت کی جانب سے سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے حوالے سے وضاحت پیش کی۔سیکرٹری صحت پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ خریداری کی جانے والی سی ٹی اسکین مشینیں دل کے امراض کی تشخیص کے لیے بھی استعمال ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام درست نہیں کہ مذکورہ سی ٹی اسکین مشینیں دل کے امراض کے لیے کارآمد نہیں ہیں۔سیکرٹری صحت نے موقف اختیار کیا کہ مشینوں کی خریداری سے قبل انہیں ماہرین سے چیک کروایا جا رہا ہے، ماہرین کی رائے کے بعد ہی مشینیں خریدی جا رہی ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب نے 13 اگست کو 24 سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے لیے اشتہار جاری کیا تھا جبکہ مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کی تاریخ 17 اگست مقرر کی گئی تھی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ مجوزہ سی ٹی اسکین مشینیں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری یونٹس میں استعمال کے لیے بھی مطلوب ہیں، تاہم صرف سی ٹی اسکینر میں 32 سلائسز کی موجودگی اس کی کارڈیک صلاحیت ثابت نہیں کرتی۔درخواست گزار کے مطابق سی ٹی اسکین مشینوں کی تکنیکی شرائط پنجاب سی ٹی پروکیورمنٹ رولز سے مطابقت نہیں رکھتیں جبکہ پی سی ون کی منظوری سے تجاوز کرتے ہوئے خریداری کا عمل شروع کیا گیا۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے لیے شروع کیے گئے بولی کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔تاہم سیکرٹری صحت پنجاب کی جانب سے عدالت میں وضاحت اور بیان ریکارڈ ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی۔

Ansa Awais

Content Writer