ویب ڈیسک: صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ نے مختلف امراض کی جعلی ادویات پکڑی ہیں اور ڈریپ نے اس حوالے سے ریپڈ الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر جعلی ادویات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کیا گیا، اس کارروائی میں ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ نے بخار، جسم درد، بیکٹیریل انفیکشن، السر اور انزائٹی کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی جعلی ادویات برآمد کر لیں۔
صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹس نے چھاپوں کے دوران مختلف مارکیٹس سے 10 جعلی ادویات برآمد کیں۔ ڈریپ نے صوبائی صحت کے محکموں کی درخواستوں پر عمل کرتے ہوئے عوام اور صحت کے پیشہ ور افراد کو خبردار کرنے کے لیے فوری ریپڈ الرٹس جاری کیے ہیں۔
ضبط شدہ مصنوعات میں جعلی اینٹی بائیوٹکس، ناک کے اسپرے، اینٹی ایلرجی ادویات، معدے کی دوائیں اور ڈائیوریٹکس شامل ہیں۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم سے اضافی پانی خارج کرنے والی دوا کی جعلی قسم کی نشاندہی ہوئی ہے، اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز نے ان کے سیمپلز کو جعلی قرار دیا ہے۔ ان ادویات کا استعمال ممکنہ طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈریپ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق جعلی ادویات معروف نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈز کے نام پر تیار کی گئی ہیں۔ ان ادویات کے لیبلز پر کراچی اور قصور کی کمپنیوں کے پتے درج ہیں۔
جعلی قرار دی گئی ادویات کی فہرست میں ایزومیکس 500mg ٹیبلٹ (بیچ C1699)،کلیریسڈ 500mg ٹیبلٹ (بیچ 722269XV)،ڈائیٹرون ٹیبلٹ (بیچ DIT)،لیونٹوس 375mg (بیچ LF2) اور 625mg (بیچز LF2، LF4)،سلفیرا سسپنشن 1g/5ml (بیچ SL6)،فیورن نیزل اسپرے 50mcg (بیچ NF4)،ڈروکسیل کیپسول 500mg (بیچ RC5)،برومز 3mg ٹیبلٹ (بیچ 0007) ہیں۔
ڈریپ کے مطابق یہ ادویات ڈرگ ایکٹ 1976 کے سیکشن 3 کے تحت جعلی قرار دی گئی ہیں۔ یہ تمام جعلی ادویات غیر قانونی طور پر تیار کی گئی تھیں اور مارکیٹ میں سپلائی بھی ہو چکی ہیں۔ ان ادویات کے سیمپلز میں استعمال شدہ خام مال کی کوئی تصدیق موجود نہیں ہے، اور ان کی تاثیر و معیار مشکوک اور ممکنہ طور پر خطرناک ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ مارکیٹ میں ایسی ادویات دیکھیں تو فوری اطلاع دیں تاکہ عوامی صحت کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ صوبائی ڈرگ کنٹرول اتھارٹیز اور ریگولیٹری فورسز کو نگرانی اور کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔