ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

علی امین گنڈاپور کی نئی دھمکی

علی امین گنڈاپور کی نئی دھمکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ملک میں کیا ہو رہا ہے، قوم کن حالات سے گزر رہی ہے، اس سے کچھ غرض نہیں، پی ٹی آئی کا گدھا اب بھی اسی کنویں میں لٹکا ہوا ہے جس میں  22 اپریل سے پہلے لٹکا ہوا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے دھمکی دی ہے کہ " بانی سے ہمارے لوگوں کی ملاقات نہیں ہونے دی گئی تو  آئی ایم ایف کی شرائط پر ساتھ نہیں دیں گے۔"

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی آج اڈیالہ جیل میں ان کے بانی عمران خان سے ملاقات کروائی گئی۔ وہ ڈھائی گھنٹے اپنے بانی کے ساتھ رہے۔

اس ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے باہر آئے تو نیوز کیمروں کو سامنے دیکھتے ہی علی امین گنڈاپور نے دھمکی دے دی۔ 

میڈیا کیمروں کے سامنے  علی امین گنڈاپور نے وہی باتیں کیں جو پی ٹی آئی کے لیڈر اور کارکن عرصہ دراز سے کر رہے ہیں۔ ان باتوں کے ساتھ انہوں نے دھمکی دی کہ ہمارے لوگوں کی بانی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی تو آئی ایم ایف کی شرائط پر ہم ساتھ نہیں دیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا، " بجٹ کے لیے ہمارے پانچ چھ لوگوں کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے۔" 

علی امین گنڈاپور نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ دھمکی دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ ریاست کے معاہدہ پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالیں گے، آیا  وہ جن لوگوں کی بانی سے ملاقات کروانا چاہتے ہیں، انہیں ملاقات کروانے سے جیل حکام انکار کر چکے ہیں یا ابھی کسی نے ملاقات کے لئے کوئی درخواست  دی بھی ہے یا نہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا،  بانی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔علی امین نے ایک بار پھر یہ الزام لگایا کہ پاکستان میں "حقیقی جمہوریت" نہیں ہے، انہوں نے دانشوروں جیسے انداز سے کہا، ملک میں آئین کی بالادستی ہونا چاہئے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اب سسٹم کو سمجھ آجانی چاہیےکہ ڈنڈے کے زور پر یہ نہیں چل سکتا، عدالتوں میں جوہمارے کیسز لگے ہوئے ہیں ان پر فیصلے کیے جائیں، ہم بہت جلد  کو رہا کروائیں گے۔

علی امین گنڈا پور نے کہا،  اگر مذاکرات کرنے ہیں تو بانی حاضر ہیں، ہمارا مطالبہ ہے بانی کو رہا کیا جائے۔

علی امین نے ملک کے حالات کو فراموش کرتے ہوئے کہا، وہ ایک بار پھر "احتجاج" کریں گے۔ انہوں نے کہا،  مجھے ڈیوٹی ملی تھی کہ حکومت کو سنبھالوں لیکن اب احتجاج کے لیے بھی متحرک ہوجائیں گے۔ ہماری احتجاجی تحریک بھرپور ہوگی، انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔