سٹی42: پاکستان کے پریذیڈنٹ آصف علی زرداری نے آج چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل عطا کر دیا۔
صدرِ مملکت نے اس پرواقت تقریب میں اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ایک بہادر فرزند کو بیٹن آف فیلڈ مارشل عطا کرنے کو اپنے لئے قابلِ فخر لمحہ قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نےکہا کہ آج کی تقریب کا مقصد بہادرسپوتوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے، پوری قوم کو اپنی بہادر مسلح افواج پر فخر ہے۔ سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینا قابل فخر لمحہ ہے، سید عاصم منیرکو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کی منظوری پر مجھے بہت مسرت ہوئی۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرنٹ سے لیڈکیا، دشمن کے خلاف پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ تھی، وطن عزیز کے چپے چپےکا دفاع کرنا جانتے ہیں، ہمارے بھرپور جواب نے دنیا پر ہماری صلاحیتیں ثابت کردیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل عطا کرنے کی تقریب اسلام آباد میں پریذیڈنٹ ہاؤس میں ہو رہی ہے۔


اس یادگار تقریب میں پاکستان کی ریاست کے تمام اہم سویلین اور ملٹری کارپرداز، سینئیر سیاسی قیادت موجود ہیں۔ اسلام آباد مین دوست ممالک کے سفارتکاروں کو بھی اس خاص تقریب مین مدعو کیا گیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو 6 مئی سے 10 مئی کے دوران معرکہَ حق اور آپریشن بنیانن مرصوص میں پاکستان کی آزادی اور وقات کے تحفظ کے لئے زمانہِ جدید کی نئی غیر معمولی برق رفتار جنگ لڑنے اور دشمن کو عملاً بے بس کر کے متحِ مبین حاصل کرنے کی تاریخ ساز کامیابی پر فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دی گئی ہے۔ پاکستان کی ریاست کے سربراہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے تمام ارکان نے معکہِ حق کی سٹریٹیجی کے خالف اور کمانڈر، مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے جلیل القدر منصب پر فائض کرنے کا فیصلہ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ کیا۔ اس ترقی کا نوٹیفیکیشن پرسوں 20 مئی کو کابینہ کے فیصلہ کے کچھ ہی دیر بعد ہو گیا تھا۔
کل 21 مئی کو یہ تقریب طے تھی لیکن بلوچستان کے خضدار مین معصوم سکول سٹوڈنتس کی بس پر دشمن کے پراکسی دہشتگردوں کے شرم ناک حملے کے الم ناک سانحہ کے سبب یہ تقریب ملتوی کر دی گئی۔
فیلڈ مارشل کو ان کی بیٹن عطا کرنے کی تقریب آج شب ایوانِ صدر میں ہو رہی ہے۔

آپریشن بنیانن مرصوص
پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کا نام "آپریشن بنیان-ام-مارسوس" ہے اور متعدد خطوں میں متعدد ہندوستانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ حملے، جنہیں حکام نے "صحیح اور متناسب" کے طور پر بیان کیا ہے، وہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار اور پاکستان کی سرزمین کے اندر بھارت کی مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے تھے، جس کا نئی دہلی نے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد "دہشت گردوں کے اہداف" تھا۔
پاکستان نے تین رافیل سمیت چھ بھارتی لڑاکا طیارے اور درجنوں ڈرون مار گرائے۔ کم از کم 87 گھنٹوں کے بعد، بھارت کی طرف سے اشتعال دلانے والی جنگ 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ فوجی محاذ آرائی کے دوران بھارتی حملوں میں مسلح افواج کے 13 اہلکاروں اور 40 شہریوں سمیت مجموعی طور پر 53 افراد شہید ہوئے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر - ایک مختصر پروفائل
سی او ایس جنرل عاصم منیر نے منگلا آفیسرز ٹریننگ سکول پروگرام سے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور پھر فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشنڈ آفیسر بن گئے۔
انہوں نے ایک بریگیڈیئر کے طور پر ناردرن ایریاز فورس کی کمانڈ کی اور 2017 کے اوائل میں ملٹری انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ 2018 میں انہیں انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔
جس کے بعد وہ دو سال کے لیے کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات رہے۔ انہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں کوارٹر ماسٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
نومبر 2022 میں جنرل منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا۔
وہ واحد آرمی چیف ہیں جنہوں نے ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں پرائم انٹیلی جنس اداروں کی باری باری قیادت کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے آرمی چیف بھی ہیں جنہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ ملا ہے۔ فیلڈ مارشل دنیا میں کسی فوجی کے کیرئیر میں آنے والا بلند ترین منصب ہے جو صرف انتہائی گیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی جنگوں میں اظہار کرنے والے سپہ سالاروں کو ملتا ہے۔


