شیریں مزاری کی فوری رہائی کیساتھ عدالت نے ایک اور بڑا حکم سنا دیا

شیریں مزاری کی فوری رہائی کیساتھ عدالت نے ایک اور بڑا حکم سنا دیا
کیپشن: islamabad high court
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا تھا، رہنما پی ٹی آئی نے کہا میں ان اہلکاروں کو پہچان سکتی ہوں وہ یہاں موجود ہیں انہیں سزا دیں، عدالت نے شیریں مزاری کی فوری رہائی کا حکم د یتے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا۔

تفصیلات کےمطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نےدرخواست پر سماعت کی۔آپ آگئی ہیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نےشیریں مزاری سے استفسار کیا، شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ مجھ پر تشدد ہوا مجھے زبردستی گاڑی سے اتارا گیا ،مجھے حراست میں لے کر موٹروے پر لے گئے،کلرکہار کے قریب سے مجھے واپس لایاگیا۔

میں کہتی رہی کہ مجھے وارنٹ گرفتاری دکھائیں، مجھے میل پولیس اہلکاروں نے گھسیٹا میرے کندھوں میں ابھی بھی درد ہے،میرا فون چھینا گیا اور ابھی تک واپس نہیں کیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے کہا کہ جب قانون کی پاسداری نہیں ہوتی تو ایسے واقعات ہوتے ہیں ، شیریں مزاری نے کہا میں ان اہلکاروں کو پہچان سکتی ہوں وہ یہاں موجود ہیں انہیں سزا دیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےآئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا؟ عدالت کس کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرائے ؟اسپیکر کی اجازت کے بغیر  کیسے ممبر قومی اسمبلی کو گرفتار کیا جاسکتا ہے ؟کوئی دوسرے صوبے سے آیا اور کارروائی کرگیا ، عدالت اس کیس میں کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟بتائیں کون انکوائری کرے گا ؟افسوس کی بات ہے کہ کسی حکومت نے جبری گمشدگیوں پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

ہر حکومت کا آئینی خلاف ورزیوں پر افسوسناک رویہ ہوتا تھا،آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ میں نے آج ہی چارج لیا واقعہ پہلے ہوچکا تھا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہناتھا کہ وفاقی حکومت کو واقعے کا علم ہی نہیں تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ شیریں مزاری کو کیسے اٹھایا گیا؟

ایڈوکیٹ جنرل کا کہناتھا کہ سیاسی جماعت کو یہ ماننا پڑے گا کہ عدالت رات کو آئینی تحفظ کے لیے موجود ہے،ہم عدالت کے مشکور ہیں کہ رات اس پہر سماعت کی، چیف جسٹس یہ ایک آئینی عدالت ہے جو سب کے لیے ہے ، عدالت ماضی میں بھی ایسے واقعات دیکھتی رہی ہے،آج تک مطیع اللہ جان کے کیس کی انوسٹی گیشن نہیں ہو سکی۔

یہ عدالت اپنے دائرہ اختیار میں یہ سب برداشت نہیں کرے گی،آپ بتائیں کہ اس معاملے کی تفتیش کر کے رپورٹ کون جمع کرائے گا؟اسلام آبادہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی فوری رہائی کا حکم دیا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

 ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ایگزیکٹو انکوائری کا حکم دیں جوڈیشل انکوائری کا نہیں،اسلام آبادہائیکورٹ نےآئی جی کو شیریں مزاری کی تمام اشیا واپس کرانے کا حکم بھی دیا۔بعد ازاں شیریں مزاری کمرہ عدالت سے باہر آگئیں جبکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آبادہائیکورٹ کے باہر موجود تھی۔