ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت:15 حاملہ خواتین کی کڈنی فیل،وزیر صحت کےبیان ہنگامہ مچ گیا

بھارت:15 حاملہ خواتین کی کڈنی فیل،وزیر صحت کےبیان ہنگامہ مچ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : بھارت کے شہروں کوٹا اور بیکانیر کے بعد جودھپور میں 8 حاملہ خواتین کی کڈنی فیل ہونے اور انفیکشن جیسے حساس معاملے پر ریاست کے وزیر صحت کے بیان پرعوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ، جس پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کےلیڈر نے جارحانہ جواب دیا ہے۔
 بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کےمطابق راجستھان کے سرکاری اسپتالوں میں حاملہ خواتین کی موت اور بگڑتی ہوئی صحت کا معاملہ اب ایک بڑے سیاسی طوفان کی شکل اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ کوٹا میں 5 اور بیکانیر میں 2 حاملہ خواتین کی موت کے بعد اب جودھپور میں 8 حاملہ خواتین کی کڈنی فیل ہونے اور 6 خواتین میں سیپٹیسیمیا (خون میں سنگین انفیکشن) ہونے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس انتہائی حساس معاملے پر ریاست کے وزیر صحت گجیندر سنگھ کھینوسر کے ایک بیان نے آگ میں گھی کا کام کر دیا ہے، جس پر کانگریس لیڈر پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے جارحانہ جواب دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جودھپور اور کوٹا کی وارداتوں پر جب وزیر صحت سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ایسا بیان دیا جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ وزیر کھینوسر نے کہا کہ ’’آج کی نوجوان نسل درد زہ (لیبر پین) برداشت نہیں کرنا چاہتی ہے۔ سیزیرین ڈیلیوری (آپریشن) کی وجہ سے ایسے معاملے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ وزیر صحت نے کہا کہ ’’ہمارے پاس مختلف مقامات سے انتہائی نازک حالات میں دھکے کھاتی ہوئیں خواتین سرکاری اسپتالوں میں پہنچتی ہیں۔ یہ سبھی ریفرل کیسز ہیں جو پہلے سے ہی نازک تھے۔ اسپتالوں میں حاملہ خواتین کی شرح اموات صرف ایک فیصد ہے۔ کوٹا میں آکسیٹوسن انجیکشن میں پانی کی ملاوٹ پائے جانے کے بعد محکمہ کی طرف سے ہدایات دی گئی ہیں کہ پرائیویٹ سے دواؤں کی خرید کو 25 فیصد تک کم کیا جائے۔وزیر نے دعویٰ کیا کہ جودھپور میں فی الحال کسی بھی خاتون کی حالت نازک نہیں ہے۔ ایک خاتون یرقان کی حالت میں پہنچی تھی، ابھی تک کی تحقیقات سے انفیکشن کی بڑی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

بھارتی وزیر نے اعتراف کیا کہ کوٹا کے آپریشن روم (او ٹی) میں مانیٹرس اور اے سی کی دیکھ بھال میں کمی تھی جبکہ بیکانیر کے او ٹی میں انفیکشن نہیں بلکہ کچرا اور گندگی پائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں شہروں میں معاملے الگ الگ ہیں اور انہیں ایک ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس معاملہ میں کھچاریاواس نے حکومت کے خلاف سخت حملہ کیا۔ انہوں نے براہ راست حکومت پر لاپرواہی چھپانے کا الزام لگایا۔