ملک اشرف : انسانی اسمگلنگ اور بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دینےکاکیس،ہائیکورٹ نے ملزم محمدارشد کی درخواست ضمانت خارج کردی،ملزم نے شہریوں سے بھاری رقوم بٹوری تھیں۔
جسٹس تنویراحمدشیخ نےچارصفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ بیرون ملک نوکری اور بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر معصوم شہریوں کو لوٹنے والے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عدالت نےفیصلےمیں ملزم کو "سنگدل اور انتہائی خطرناک ملزم" قرار دیا۔تحریری فیصلے کےمطابق ملزم محمدارشدپرالزام ہےکہ اس نے متاثرہ نوجوان کو اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دے کر 25 لاکھ روپے وصول کیے۔
بعد ازاں نوجوان کو غیر قانونی طریقے سے لیبیا منتقل کیا گیا، جہاں سے یورپ جانے کی کوشش کے دوران کشتی حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں اس کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔عدالت نے قرار دیا کہ کشتی الٹنے کے واقعے میں نوجوان کی ہلاکت کے امکان کو اس مرحلے پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ ایسےعناصر درحقیقت معصوم شہریوں کا "مالی قتل" کرتےہیں اور معاشرےکے لیےسنگین خطرہ ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئےواقعات کے تناظر میں ایسے مقدمات میں سخت قانونی مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ بیرون ملک روزگار کے نام پر شہریوں کا استحصال کرنیوالے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔