ویب ڈیسک: امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (USMCA) نئی آزمائش سے گزر رہا ہے، جہاں واشنگٹن دونوں ممالک سے الگ الگ مذاکرات کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمت عملی سے مستقبل میں کینیڈا پر وہ شرائط قبول کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جن پر میکسیکو پہلے ہی رضامندی ظاہر کر دے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے میں 16 سال کی توسیع سے انکار کرتے ہوئے اسے سالانہ جائزے سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا پر گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور دیگر اشیا پر 50 فیصد نئے ٹیرف بھی عائد کیے ہیں، جو 19 اگست سے نافذ ہوں گے۔
دوسری جانب میکسیکو اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات نسبتاً زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں، جبکہ کینیڈا اب بھی بہتر شرائط حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ آخرکار تمام معاملات دوبارہ تین فریقی تجارتی معاہدے کے تحت طے پا جائیں۔
ماہرین کے مطابق امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان سالانہ تقریباً 1.6 ٹریلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے، اس لیے موجودہ مذاکرات کا نتیجہ شمالی امریکا کی معیشت اور خطے کی سپلائی چین کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔