ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان میں ایک اور زلزلہ، پے در پے زلزلوں سے لوگوں میں خوف و ہراس

افغانستان میں ایک اور زلزلہ، پے در پے زلزلوں سے لوگوں میں خوف و ہراس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: افغانستان میں یکے بعد دیگرے زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کئے گئے جن کی شدت 4.2 اور 4.5 تھی۔

 نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3:20 پر آیا جس کی شدت 4.5 اور گہرائی 100 کلو میٹر تھی، دوسرا زلزلہ اس کے 15 منٹ کے اندر آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 150 کلومیٹر ہے۔

 رپورٹ کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آگئے تاہم فی الحال کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

 اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے مطابق افغانستان قدرتی آفات بشمول موسمی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں کیلئے انتہائی حساس خطہ ہے۔ افغانستان میں طاقتور زلزلوں کی تاریخ ہے، ہندوکش پہاڑی سلسلہ ارضیاتی طور پر ایک فعال علاقہ ہے، جہاں ہر سال زلزلے آتے ہیں یہ ملک ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان کئی فالٹ لائنوں پر بیٹھا ہے، جس میں ایک فالٹ لائن براہ راست ہیرات سے گزرتی ہے.

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟

 دنیا کی تاریخ حادثات اور قدرتی آفات سے بھری پڑی ہے، بعض حادثات وآفات نے تو انسانی آبادی کے بڑے حصے کو  صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیاہے، جب کوئی قدرتی آفات آتی ہیں تو دنیا کے تمام سائنسدانوں، سیاستدانوں اور حکمرانوں کے انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

 ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں میں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے.

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

 پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔