بینکنگ کورٹس بھوت بنگلہ بن گئیں

بینکنگ کورٹس بھوت بنگلہ بن گئیں

شاہین عتیق: مال روڈ پر بینکنگ کورٹس وفاقی حکومت کی عدم توجہ سے بھوت بنگلہ بن گئیں۔ جگہ جگہ بجلی کے لٹکتے تار، ٹوٹی چھتیں کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق فیڈرل حکومت نے مال روڈ پر واقع بلڈنگ کو بینکنگ کورٹ کیلئے مخصوص کر دیا ہے۔ اس بلڈنگ میں بینکنگ کی سات عدالتیں قائم کی گئیں، بلڈنگ میں سات جج ریکوری کیسوں کی سماعت کررہے ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ نے عدم دلچسپی سے عمارت بھوت بنگلے کا سماں پیش کررہی ہے۔ بجلی کے لٹکتے تار، چھتوں سے گرتی مٹی اور برآمدوں کی ٹوٹی سیلنگ خوفناک منظر دکھا رہی ہے۔ عدالتوں میں کبوتروں نے گھونسلے بنا رکھے ہیں۔

اختر محمود ڈھلوں ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمارت پر توجہ نہ دی تو عمارت کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ بینکنگ کورٹ کی عمارت فیڈرل گورنمنٹ کی عدم توجہ کی وجہ سے بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہی، جس کی طرف فیڈرل گورنمنٹ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

دوسری جانب بینک جرائم کورٹ نے فراڈ کے تین مقدمات کے فیصلے سنا دیئے۔ بینک جرائم کورٹ پنجاب کے جج منیر احمد جوئیہ کی عدالت میں ایف آئی اے نے تین مختلف مقدمات پیش کیے۔ جن کی عدالت میں باقاعدگی سے سماعت ہوئی۔ عدالت نے الفلاح بینک راولپنڈی کیس میں دو ملزمان شوکت محمود کو مجموعی طور پراکیس سال قید اور دو کروڑ ستانونے لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ 

عدالت نے اس کیس میں دیگر بارہ ملزموں کو بری کر دیا۔ ملزمان پر اکاؤنٹ سے رقم خوردبرد کا الزام تھا۔ اسی عدالت نے دوسرے ملزم بشیر احمد کو بینک فراڈ کیس میں چوبیس سال قید اور ایک کروڑ چھیالیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے دیگر چار ملزموں کو بری کردیا۔

اسی طرح عدالت نےانکم ٹیکس کیس میں دو ملزمان ارشاد علی اور اقبال کو اکیس اکیس سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔ تمام ملزموں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ملزموں پر انکم ٹیکس آفس میں ملازمت کے دوران رقم خوردبرد کرنے کا الزام تھا۔