سٹی 42: ایران میں 2 پاکستانیوں کی موت؛ پاکستانی سفیر نے لاشیں پاکستان بھجوانے کا اعلان کردیا
ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ایکس پر پیغام دیتے ہوئے کہا جونہی سفارت خانہ کو معلومات موصول ہوئی ہم نے مرحوم ارمان اللہ کے متعلق تفصیلات اکٹھی کیں,ارمان اللہ کا انتقال ایران ترکی بارڈر کے قریب کھوئی کے مقام پر ہوا ہے, ان کی میت اس وقت مقامی ہسپتال میں محفوظ ہے,بظاہر لگتا ہے کہ ان کی وفات شدید سردی اور برف باری کے باعث ہوئی ہے, ہمیں شک ہے کہ مرحوم انسانی سمگلرز کے ہوس کا شکار ھوا ہے۔پاکستانی سفارت خانہ نے مرحوم کے خاندان سے رابطہ کیا ہے, ہم جلد از جلد ان کے جسد خاکی کو پاکستان بھجوائیں گے۔ ہم مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور درد کا اظہار کرتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا ایک بار دوبارہ درخواست ہے کہ ہمارے معصوم پاکستانی انسانی سمگلرز کہ مکروفریب اور گھناونے جرائم سے بچیں۔پاکستانی سفارت خانہ ان تمام احباب کی شکرگزار ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر ہم تک پہنچائی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں نوشہرہ کے دو نوجوان یورپ جانے کے خواب میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ,احتشام اور ارمان اللہ ایران، ترکی سرحد کے قریب شدید سردی سے جاں بحق ہوئے۔پاکستانی نوجوانوں کے ایران میں جاں بحق ہونے کی خبر کی پاکستانی سفارتخانہ نے بھی تصدیق کر دی۔
ترجمان پاکستانی سفارتخانہ, ایران نے کہا یہ واقعہ تہران سے بہت دور ہوا ہے,پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ارمان اللہ کی لاش ایران کے پہاڑی علاقے کھوئی سے برآمد ہوئی,یہ علاقہ ایران اور ترکیہ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔اس علاقے میں ابھی بھی شدید برف باری ہو رہی ہے۔
بظاہر دکھائی دیتا ہےکہ بھوک, سردی اور برف باری سے ان پاکستانیوں کی وفات ہوئی ہے۔خدشہ ہے کہ یہ واقعہ انسانی اسمگلنگ کا واقعہ ہے۔لاشیں پاکستان واپس لانے کے انتظامات جاری ہیں۔
ہمارے قونصلر اس حوالے سے فعال ہیں۔وہ نعشوں کی واپسیی کے حوالے دستاویزی کاروائی مکمل کر رہے ہیں۔غیر قانونی ہونے کے باعث بہت سی دستاویزی کارروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔سفارت خانہ مکمل طور پر فعال ہے اور اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ کر رہا ہے,کوشیش ہے کہ جلد از جلد ان کی نعشیں واپس بھجوائی جا سکیں۔