(درنایاب) شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگ گئی۔ ایل ڈی سٹی کے مستقبل کا فیصلہ کون کرےگا؟ ایل ڈی اے حکام نے میگا سکیم کے مستقبل کا فیصلہ اراضی مالکان کی تجاویز سےمشروط کردیا۔
سات سال گزر جانے کے باوجود ایل ڈی اے سٹی کی50 فیصد اراضی بھی ایکوائر نہ کی جاسکی۔ ایل ڈی اے نے اراضی مالکان سے وے فارورڈ کے لئے تجاویز مانگ لیں۔ ایل ڈی اے سٹی بیک وقت نیب، اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کے زیر تحقیقات ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایل ڈی اے سٹی سکیم پر سوموٹو بھی لے رکھا ہے۔ایل ڈی اے حکام سے سپریم کورٹ نے 29 دسمبر تک وے فارورڈ مانگ رکھا ہے۔ ایل ڈی اے حکام نےاپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے اراضی مالکان سے تجاویز مانگ لیں۔
ایل ڈی اے سٹی 5800 کنال پر محیط ہے۔ ایل ڈی اے سٹی کا ایک موضع طور وڑائچ 17 ہزار کنال کا ایکوائر ہی نہیں کیا جاسکتا۔ایل ڈی اے سٹی حکام نے مختلف پروپوزل پر کام کیا۔ وائس چیئرمین اورڈی جی ایل ڈی اے نے موقع پر دورہ بھی کیا۔ ایل ڈی اے سٹی کے ڈویلپرز کے معاہدےمیں ایک سال سے توسیع ہی نہیں کی جاسکی۔
ذرائع کے مطابق حکام ایل ڈی اے سٹی کو رول بیک یا 58 ہزار کنال سے کم کر کے 20 ہزار کنال تک محدود کی آپشن پر بھی غور کرچکے ہیں۔ ایل ڈی اے سٹی کے ذمہ دار ڈائریکٹرز نے منصوبے کو رول بیک کرنے کی مخالفت بھی کی۔ ڈی جی ایل ڈی اے کو منصوبے کی شفافیت اور کسی بھی فائل پر دستخط کرنے پر شدید تحفظات ہیں۔ ڈویلپرز ایل ڈی اے سٹی کی 7200 سے زائد فائلیں شہریوں کو دھوکہ دہی کے ساتھ فروخت کرچکے ہیں۔ زمین کم دینے اور فائلیں زیادہ بیچنے پر ڈویلپرز نیب کی حراست میں ہیں۔
ایل ڈی اے ایکوزیشن کے تمام ذرائع استعمال کرنے کے باوجود بھی اراضی حاصل نہیں کرسکا۔ ایل ڈی اے نے فرینڈلی ایکوزیشن، کمپلسری اور براہ راست ایکوزیشن جیسی آپشن پر بھی کام کیا۔ اراضی مالکان نے ایل ڈی اے اور ڈویلپرز سے اعتبار اٹھنے کے بعد زمین ایکوائر کرانا چھوڑ دی۔