سٹی42: سرکاری خرچ پر لندن کا ذاتی دورہ کرنا سابق صدر کے لئے گلے کا پھندا بن گیا۔ سرکاری خرچ پر لندن کا ذاتی دورہ کرنے کے جرم میں سابق صدر گرفتار ہو گئے۔
سری لنکا کے سابق صدر رانیل وکرما سنگھے کو سرکاری خرچ سے لندن کا ذاتی دورہ کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سری لنکا کے وکرما سنگھے اپنی بیگم کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری خرچ پر لندن چلے گئے تھے۔
سری لنکا کے سابق صدر رانیل وکرما سنگھے کو سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ رانیل وکرما سنگھے کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہیں اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق 76 سالہ رانیل وکرما سنگھے نے 2023 میں اپنی اہلیہ کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے لندن کا دورہ کیا اور اس مقصد کے لیے ریاستی وسائل استعمال کیے۔ صدر وکرما سنگھے نے لندن کا یہ دورہ اس وقت کیا جب وہ کیوبا میں جی77 سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس آرہے تھے۔
وکرما سنگھے کے دفتر نے اس وقت یہ کہتے ہوئے الزام کی تردید کی تھی کہ ان کی اہلیہ کے تمام اخراجات انہوں نے خود برداشت کیے اور کسی قسم کے سرکاری فنڈز استعمال نہیں کیے گئے۔ تاہم کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ وکرما سنگھے نے اس نجی دورے کے لیے حکومتی رقم استعمال کی اور ان کے ساتھ موجود باڈی گارڈز کے اخراجات بھی ریاست نے ادا کیے۔
وکرما سنگھے کے تین سابق مشیروں سے بھی تفتیش کی گئی۔ وکرما سنگھے اور ان کی اہلیہ نے برطانیہ کی یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
و سری لنکا میں حکومت کی کرپشن کے خلاف ملک گیر احتجاج اور تشدد کے بعد اس وقت کے صدر گوتابایا راجاپاکسا نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے بعد رانیل ورکما سنگھے جولائی 2022 میں سری لنکا کے صدر بنے تھے۔
وکرما سنگھے کو صاف ستھرا آدمی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے 2023 کے اوائل میں آئی ایم ایف سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا اور ملک کی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کو کسی حد تک سنبھالا۔ سری لنکا کو چلا وہ بھی نہین سکے اور وہ 2024 کے انتخابات میں اقتدار کھو بیٹھے۔
موجودہ صدر انورا کمارا دسانایکے نے گزشتہ برس اقتدار سنبھالتے ہی انسداد بدعنوانی مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت سابق صدر کے خلاف یہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔