شاہین عتیق: جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر عمر عادل کو غیر مہذب گفتگو کے کیس میں ایف آئی اے کے حوالے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈاکٹر عمر عادل کو 26 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
ڈاکٹر عمر عادل کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حال ہی میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا اور ایک ٹی وی پروگرام میں آرائیں برادری کے خلاف غیر مناسب اور توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔
چیرمین آرائیں ایسوسی ایشن کی جانب سے باقاعدہ درخواست دی گئی، جس کے بعد ایف آئی اے نے ڈاکٹر عمر عادل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی انکوائری کے بعد انہیں پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عمر عادل نے متنازع بیان پر سوشل میڈیا کے ذریعے معذرت بھی کی تھی تاہم متاثرہ کمیونٹی کی جانب سے قانونی کارروائی کے مطالبے پر یہ مقدمہ درج کیا گیا۔
سائبر کرائم ونگ کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ریمانڈ کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔