(ویب ڈیسک) اسلام آباد میں ہونیوالے امریکہ۔ ایران امن مذاکرات میں تہران شرکت سے ہچکچا رہا ہے ۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق خود ٹرمپ کے بڑبولے پن نے بات بگاڑ دی اور ایران کا بھروسہ ہی واشنگٹن پر سے اٹھ گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلے عام سخت موقف اپنایا ہے، اس سے آئندہ جنگ بندی کی آخری تاریخ سے پہلے ایک معاہدے کے بارے میں نئے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔11 اپریل کو امریکہ ۔ایران معاہدہ کے خدو خال لگ بھگ تیار ہوگئے ، پھر معاملات بگڑ گئے ؟11 اپریل کو رک سکتی تھی جنگ لیکن امریکی صدر ٹرمپ کے بڑ بولے پن نے سارا کھیل بگاڑ دیا ۔ امریکی حکام سر پیٹتے رہ گئے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہےکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جو اسلام آباد میں متوقع تھا، اب غیر یقینی ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ایرانی پرچم والے جہاز کو پکڑے جانے کے بعد مذاکرات میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے ابھی تک مذاکرات کے اگلے دور کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کو ہے، جس سے دونوں طرف سے کسی معاہدے تک پہنچنے یا پھر سے دشمنی شروع کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، ٹرمپ کے عوامی بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس نے ان نازک مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے اس غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فریق سات ہفتوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب نظر آئے، لیکن ٹرمپ نے عوامی طور پر دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ اہم شرائط پر اتفاق کیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ان شرائط کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی تھی ۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس بات پر شک ظاہر کیا کہ آیا مذاکرات کا اگلا دور آگے بڑھے گا۔ مذاکرات سے واقف ایک شخص نے سی این این کو بتایا کہ ایرانی امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت کرنے سے خوش نہیں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ان مسائل پر سمجھوتہ کر چکے ہیں جن پر وہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی طرف سے ڈیڈ لائن کی تبدیلی اور ملے جلے اشاروں نے اس الجھن کو مزید بڑھا دیا ۔ ٹرمپ بعض اوقات اشارہ دیتے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، جب کہ دوسروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کو بدھ سے آگے بڑھانے کا امکان نہیں ہے، جس سے سفارتی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹرمپ نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر ایران امریکی شرائط پر راضی نہیں ہوا تو اسے پلوں اور پاور پلانٹس جیسے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ایران نے اصرار کیا کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایک اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تعطل دونوں فریقوں کے درمیان گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی حکام واشنگٹن کی سفارت کاری کے عزم پر سوال اٹھا رہے ہیں، جب کہ دونوں فریق ممکنہ مذاکرات کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے باوجود امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایک وفد کی پاکستان آمد متوقع ہے۔ تاہم، وقت اور کس کو شامل کیا جائے گا ابھی تک حتمی نہیں ہے. آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر، موجودہ مذاکرات کے نتائج علاقائی استحکام، توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کیلئے دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔