سٹی42: بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں نامعلوم مسلح افراد نے سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کر دی، جس میں 27 افراد کے مرنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔ بھارت کا میڈیا اس واقعہ میں کشمیر کے آزادی پسندوں کو ملوث قرار دے رہا ہے جب کہ پاکستان میں ذرائع اسے انڈیا کا فالس فلیگ آپریشن بتا رہے ہیں۔
دنیا کا میڈیا اس واقعہ کے متعلق بھارت کے میڈیا اور پولیس کی فراہم کردہ معلومات کو ہی رپورٹ کر رہا ہے۔ الجزیرہ نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر پبلش ہونے والی رپورٹ میں لکھا کہ پولیس نے کہا کہ متعدد سیاحوں کو منگل کے روز "دہشت گردی کے حملے" میں گولی لگنے سے زخم آئے جب وہ متنازعہ علاقے کے ریزورٹ ٹاؤن پہلگام سے تقریباً 5 کلومیٹر (3 میل) دور بایسران گھاس کے علاقہ کی سیر کر رہے تھے۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’یہ حملہ اس سے کہیں بڑا ہے جو ہم نے حالیہ برسوں میں عام شہریوں پر دیکھے ہیں۔‘‘
ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی نے بتایا، کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی، جس کا الزام پولیس نے ہندوستان کی کشمیر پر حکمرانی کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں پر لگایا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ۔
ابتدا میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس حملے میں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے لیکن انڈیا کا میڈیا ہلاکتوں کی تعداد بہت کم بتاتا رہا، اب رات ڈھلنے کے بعد زیادہ تفصیل سے بتایا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔
اس حملے کے وقت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی، سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں۔ مودی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں پہلگام میں اس حملے کو "گھناؤنا فعل" قرار دیتے ہوئے اس کی کی مذمت کی اور کہا، حملہ آوروں کو "انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا"۔
انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے بارے مین انڈین میڈیا نے بتایا کہ وہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر جا رہے ہیں جہاں وہ صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں ہندوستانی حکومت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 371 میں تحریر خصوصی حیثیت کو منسوخ کرتے ہوئے ریاست کو وفاق کے زیر انتظام علاقوں - جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا۔ مودی حکومت کے اس اقدام نے مقبوضہ ریاست کی آزادی کے لئے عرصہ سے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ کشمیر پر بھارت کی حاکمیت کو عملاً تسلیم کرنے والے ریاست کے سیاستدانوں کو بھی مشتعل کیا، انڈیا کی مرکزی حکومت کے خلاف شدید احتجاج ہوئے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف عوامی نفرت کی طاقت ور لہر گزشتہ سال ہونے والے لوک سبھا الیکشن اور اس کے بعد ریاستی اسمبلی کے نام نہاد الیکشن مین بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی مقامی جماعت کے صفایا کا سبب بن گئی تھی۔
اب طویل عرصہ بعد اچانک کشمیری آزادی پسند تنظیموں اور گروپوں کے طریقہ کار کے برعکس عام سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی فالس فلیگ آپریشن ہو سکتا ہے، اس واقعہ کی ٹائمنگ پر بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ اس واقعہ کے وقت بھارت میں ہندوتوا کا پرچار کرنے اور بھارت کے بہت سے علاقوں مین مسلمانوں پر عرصہِ حیات تنگ کر دینے والی جماعت کے وزیراعظم ایک غیر معمولی ڈپلومیٹک پیش رفت میں سعودی عرب کے سرکاری دورہ پر ہیں۔
اسی سال، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک رپورٹ میں بھارت پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا اور ان الزامات کی تحقیقات کا کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔