سٹی42: قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق نے ویڈیو لنک کانفرنس میں کہا ہے کہ اس وقت ملک مشکل صورتحال کا شکار ہے، جب ہم پی ایس ایل کھیل رہے تھے بالکل بھی نہیں سوچ رہے تھے کہ یہ صورتحال ہوگی۔
امام الحق کا کہنا ہے کے سب سے اپیل ہے کہ گھروں میں رہیں یہ وقت کی ضرورت ہے، اس سال بھرپور ہوم سیزن تھا جس کو بہت انجوائے کیا، ویڈیو لنک پر فٹنس ٹیسٹ کا تجربہ بہت ہی شاندار رہا، ویڈیو لنک پر فٹنس ٹیسٹ میں بھی نارمل ٹیسٹ کی طرح زور لگا ہے۔ امام الحق کا کہنا تھا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ کرکٹ کراؤڈ کے ساتھ ہو تو اچھا لگے گا، بند دروازوں میں کرکٹ کے حوالے سے بورڈز سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے، مشکل صورتحال میں کھلاڑیوں کے معاوضوں کے حوالے سے فیصلہ پی سی بی کا ہے۔
امام الحق کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ معاوضوں پر جو بھی فیصلہ کرے گا اس پر عمل کریں گے، لاک ڈاؤن کے بعد کھیل کی طرف واپس آنے کے لیے وقت درکار ہوگا، لاک ڈاؤن کے باوجود خود کو فٹ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، فٹنس کو برقرار رکھنا ہر کھلاڑی کی اپنی زمہ داری ہوتی ہے۔ امام الحق نے کہا کہ فٹنس ٹیسٹ سے کھلاڑیوں کو اپنی فٹنس کو جانچنے کا موقع ملتا ہے، میرے خیال میں ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کراؤڈ کے ساتھ ہونا چاہیے، اس معاملے پر آئی سی سی اور بورڈز ہر چیز دیکھ کر ہی فیصلہ کریں گے، ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہئے اور امید ہے کہ جلد حالات نارمل ہو جائیں، سو شل میڈیا کی پر مجھے بلاوجہ تنازعات میں الجھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف سلیکٹر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے مجھے بے وجہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مکی آرتھر اور مصباح الحق دونوں کی کوچنگ کا الگ الگ انداز ہے، مکی آرتھر جلد غصے میں آ جاتے تھے، مصباح الحق ریلیکس رہتے ہیں اور جلدی غصے میں نہیں آ تے۔امام الحق نے کہا کہ اس وقت اوپنرز کے درمیان قومی ٹیم میں جگہ بنانے کا دلچسپ مقابلہ ہے، عابد علی، فخر زمان، شان مسعود اور میرے درمیان مقابلے کی فضا سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہوگا، ہمیں معلوم ہے کہ جو پرفارم کرے گا وہ ٹیم میں رہے گا، لوگوں سے درخواست ہے گھروں میں رہیں یہ مشکل وقت ہے احتیاط ہی اس کا حل ہے۔
امام الحق کا مزید کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ تینوں فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کروں، فکسرز کو ٹیم میں شامل کرنا یا نہ کرنا بورڈ کا کام ہے، آسٹریلیا میں ٹیسٹ پرفارم نہیں کر پایا جس وجہ سے ٹیم سے باہر ہوا، اگر مجھے کسی ایک فارمیٹ کا انتخاب کرنا پڑے تو میں ٹیسٹ کا انتخاب کروں گا، اگر بورڈ بند دروازوں میں پریکٹس میچ کروانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا۔