اکبری منڈی کی لکھو ڈیر منتقلی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

اکبری منڈی کی لکھو ڈیر منتقلی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

ملک محمد اشرف : اکبری منڈی کی لکھو ڈیر نیو منڈی میں منتقلی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ،عدالت کا سیکرٹری زراعت کو اکبری منڈی ٹریڈرز ایسوسی کی درخواست پر 1 ماہ میں فیصلہ کر نے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے اکبری منڈی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی۔وکیل نے درخواست میں سیکرٹری زراعت، چیئرمین ایگری کلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ۔ اکبری منڈی کو غیر قانونی طور پر مارکیٹ کمیٹی بنا دیا گیا ہے۔

اکبری منڈی پرائیوٹ پراپرٹیز اور چند کارپوریشن کی پراپرٹیز پر مشتمل ہے، اکبری منڈی کا مارکیٹ کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایگریکلچر پروڈیوس ایکٹ کے تحت اکبری منڈی میں کوئی کمیشن ایجنٹس بھی نہیں ہیں، اکبری منڈی میں تمام دکاندار دوسرے شہروں سے مال منگواتے ہیں، مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے اکبری منڈی کو کوئی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی، اکبری منڈی کو لکھو ڈیر کی نئی منڈی میں منتقل کرنے سے متعلق کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی۔

سیکرٹری زراعت کا اکبری منڈی کی لکھو ڈیر کی نئی منڈی میں منتقلی کا نوٹیفیکیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، درخواستگزارنے استدعا کی کہ۔ اکبری منڈی کو مارکیٹ کمیٹی میں شامل کرنے اور نئی جگہ منتقل کرنے کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی قرار دیا جائے۔

دوسری جانب ہائیکورٹ کی9 مختلف عدالتوں میں بیوروکریسی کےخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پرسماعت ہوئی،درخواست گزاروں کی جانب سےموقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات پرافسران نےعمل درآمد نہیں کیا،استدعا ہےکہ حکم عدولی پران افسران کےخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،سائلین اور وکلاء کا کہنا ہےکہ بیوروکریٹس نے عدالتوں میں غیرمشروط معافیاں اورپھرعدالتی نافرمانیاں کرنا معمول بنالیا،عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد نہ ہونے سےانہیں پریشانی کاسامنا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار نےعدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کو سزائیں دینےکا مطالبہ کردیا۔