ویب ڈیسک :دنیا بھر میں ایمیزون ویب سروسز (AWS) میں آنے والی بڑی تکنیکی خرابی کے باعث متعدد معروف ایپس متاثر ہوئیں، جبکہ پاکستان میں بھی صارفین کو ایک اور مبینہ کیبل فالٹ کے سبب انٹرنیٹ کی سست روی کا سامنا کرنا پڑا۔
انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہونے پر ملک بھر کے صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین نے بعض آئی ایس پیز پر سروس کے متاثر ہونے اور براؤزنگ کی رفتار سست ہونے کی شکایت کی، جسے ایک بار پھر زیرِ سمندر کیبل میں خرابی سے جوڑا گیا۔
تاہم نہ تو متعلقہ کمپنیوں، نہ وزارتِ آئی ٹی، اور نہ ہی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے کوئی بیان جاری کیا گیا۔
جب وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس مسئلے کی وجہ عالمی سطح پر ’اے ڈبلیو ایس‘ کی خرابی کو قرار دیا، ان کے مطابق ’اسنیپ چیٹ اور دیگر بڑی ایپس ایمیزون ویب سروسز کی عالمی بندش کے باعث متاثر ہوئیں‘۔
دوسری جانب، کئی انٹرنیٹ صارفین کا دعویٰ تھا کہ ان کے سروس فراہم کنندہ ادارے نے انہیں ’کیبل میں خرابی‘ سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ ڈیجیٹل ماہر حبیب اللہ خان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دعویٰ کیا کہ یہ تعطل پیس کیبل میں خرابی کے باعث ہوا۔
انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’کیبل کے مرکزی نظام میں کٹ لگا ہے، ٹیمیں خرابی کے مقام کا تعین کرنے کے لیے ٹیسٹ کر رہی ہیں‘۔
پیس کیبل سسٹم چین سے شروع ہوتا ہے اور کراچی کے علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں مصری شاہ گیٹ وے کے ذریعے پاکستان سے جڑتا ہے، جو ملک کو 600 گیگا بائٹس فی سیکنڈ (جی بی پی ایس) کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ملک میں موجود دیگر زیرِ سمندر کیبل نیٹ ورکس ریاستی ادارے پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس چلاتے ہیں۔
پی ٹی سی ایل کے زیرِ انتظام 3 زیرسمندر کیبل نیٹ ورکس ہیں، جن میں اے اے ای-1 (افریقہ، ایشیا اور یورپ)، ایس ایم ڈبلیو-4 (جنوب مشرقی ایشیا-مشرقِ وسطیٰ-مغربی یورپ) اور آئی ایم ای ڈبلیو ای (بھارت-مشرقِ وسطیٰ-مغربی یورپ) شامل ہیں۔
ان میں سے ایس ایم ڈبلیو - 4 اور آئی ایم ای ڈبلیو ای کے لینڈنگ اسٹیشنز ہاکس بے پر ہیں، جبکہ اے اے ای-1 کا لینڈنگ پوائنٹ کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ہے۔