کورٹ مارشل نظام شروع کرنے کیلئے آئی جی پنجاب سی سی پی او سے متفق

کورٹ مارشل نظام شروع کرنے کیلئے آئی جی پنجاب سی سی پی او سے متفق

علی ساہی: پولیس افسران واہلکاروں کو ڈسپلنری اورکریمینل کیسز میں سزا وجزا کےلئے کورٹ مارشل نظام شروع کرنے کے لئےآئی جی پنجاب سی سی پی او سے متفق، کورٹ مارشل نظام کے نفاذکے لئے ڈی ائی جی لیگل کو بنیادی مسودہ تیارکرنے کے لئے احکامات جاری کردئیے۔

تفصیلات کے مطابق    آئی جی پنجاب سخت سزا وجزا کے لئے سی سی پی او سے متفق ہوتے ہوئےپولیس میں سخت سزاوجزا کے لئےسی سی پی او لاہور کی تجویزکورٹ مارشل کےلئے عملدرامد کروانے کے بنیادی مسودہ تیارکرنے کاحکم دے دیا، سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے آئی جی پنجاب کو پولیس میں کورٹ مارشل کےلئے 7 اکتوبرکے لئے مراسلہ بھجوایا تھا۔

مراسلے میں  درخواست کی گئی تھی کہ بنیادی مسودے مین آرمڈ فورسز میں کورٹ مارشل کی طرز پر پولیس میں بھی سزاء جزاء کا نظام متعارف کروانے کےلئے قوانین کی تیاری کی جائے، پولیس میں بہترین ڈسپلن اور موثر سروس ڈلیوری  کے لئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہوں گے۔

پنجاب میں پولیس ای اینڈڈی 1975کےڈسپلن رولزکےتحت سول سرونٹس ہے، سول سرونٹ رولزکے ماتحت کام کرنے کی وجہ سےآئی جی سے اپیل خارج ہونے کے بعد سروس ٹریبونلزمیں اپیل کرسکتے ہیں اور ریلیف حاصل کرلیتے ہیں۔سی سی پی او نے اعتراض کیا تھا کہ پولیس میں نوکری سے نکالے جانے پر اہلکار دوبارہ سول کورٹس، سروس ٹربیونل و دیگر طریقوں سے واپس آجاتے ہیں۔

پولیس میں ڈسپلنری اور کریمینل کیسز  کی اپیل صرف محکمے میں ڈیل کی جائے اوراس کے فیصلے سول محکمے میں نہ بھیجا جائے،  اسی حوالے سے پولیس کی جانب سے 2012 اور 2017 رولزمیں بھی سزا وجزا کے لئے ترامیم بھجوائے گئے ہیں جن کو تاحال منظور نہیں کیا گیا۔