ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے: پاکستان  

روس یوکرین تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے: پاکستان  
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے روس اور یوکرین جنگ کو فوری طور پر ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

 اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس میں واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی فوجی مداخلت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ جنگ نہ صرف متاثرہ خطے بلکہ پوری دنیا پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔

 عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا پرزور حامی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ روس-یوکرین تنازع کے حوالے سے ہمیں شدید خدشات لاحق ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانی جانیں خطرے میں ہیں اور بنیادی ڈھانچہ برباد ہو رہا ہے۔

 انہوں نے عالمی قوانین کی روشنی میں شہریوں اور انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔

 دونوں فریقین کو تصادم ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی طرف قدم اٹھانا چاہیے، جبکہ تمام مذاکراتی کوششوں کی مکمل حمایت کی جائے گی۔

 یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ایک خفیہ 28 نکات پر مشتمل روڈ میپ کی منظوری دے دی ہے۔

 اس امن منصوبے کی قیادت امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں امریکی ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ منصوبہ روس کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔