ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 اجمیرکی800سال قدیم مسجد میں پوجا پاٹھ کی اجازت طلب کرنے پرمسلمانوں میں تھرتھلی

12 ویں صدی کی تاریخی ’’ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد‘‘کو قطب الدین ایبک  نے تعمیر کروایا تھا

 اجمیرکی800سال قدیم مسجد میں پوجا پاٹھ کی اجازت طلب کرنے پرمسلمانوں میں تھرتھلی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست راجستھان کے تاریخی شہر اجمیر میں ’مہارانا پرتاپ سینا‘  کے اس مطالبہ کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہےکہ اسے12 ویں صدی کی تاریخی ’’ڈھائی دن کا جھونپڑا مسجد‘‘میں ہنومان چالیسا پڑھنے اور ہندو عقیدہ کے مطابق پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔  آثارِ قدیمہ کےتحت ’’محفوظ عمارتوں‘‘ میں شامل  اس  مسجد کے بارے میں بھگوا تنظیم کا دعویٰ  ہے کہ پہلے یہ مندر اور سنسکرت اسکول تھی جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔
واضح رہےکہ 1199 عیسوی میں قطب الدین ایبک  نے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی۔’ ڈھائی دن کا جھونپڑا‘ شمالی بھارت کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ بعد میں التمش نے   اس مسجد میں توسیع کی تھی ۔ اس عمارت کی پہچان  ہندوستانی-اسلامی طرز ِ تعمیر، بلند محرابوں، نفیس پتھریلی جالیوں اور سرخ پتھر پر کندہ قرآنی آیات ہے۔  

ہندوتوا تنظیم کی جانب سے اس میں پوجا پاٹھ کی اجازت کیلئے دی گئی درخواست میں اس تاریخی عمارت کو مختلف انداز میں پیش کیاگیا ہے۔ تنظیم کے اراکین کا کہنا ہے کہ عمارت میں موجود نقوش اور تعمیراتی علامات اس کے ہندو پس منظر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس سے قبل بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولیٰ مسجد کو تمام شواہد کی موجودگی کے باوجود ’’سرسوتی کا مندر ‘‘قراردیکر ہندوؤں کو دے دیا ہے، اسی فیصلے کے پس منظر میں ہندوتوا تنظیم کی جانب سے اس میں پوجا پاٹھ کی اجازت کیلئے دی گئی درخواست کے بعد اجمیر کے مسلمانوں میں کشیدگی اور فکرمندی پھیل گئی ہے۔