ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوارِ الحق پنوں نے مغوی کی بازیابی کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ بندے کو اٹھا لیا جاتا ہے اور 6، 6 ماہ تک پتہ نہیں چلنے دیا جاتا کہ وہ کہاں ہے،جو بندہ اٹھایا جاتا ہے اسکے بھی کوئی حقوق ہوتے ہیں،جب اس طرح بندوں کو اٹھایا جاتا ہے تو نفرتیں ہی بڑھتی ہیں، ان لوگوں کو شرم آنی چاہئے۔
جسٹس انوارِ الحق پنوں نے خاتون اقصیٰ پرویز کی درخواست پر سماعت کی,پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل محمد فرخ خان لودھی پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ڈی ایس پی کی سربراہی میں 7 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی تھی، مغوی کے ساتھ جو شخص اغواء ہوا تھا وہ رہا ہوا اسکو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ کوئی تعاون نہیں کر رہا۔مزید گواہان کے بیان قلمبند کیے گئے،
جسٹس انوار الحق پنوں نے ریماکس دئیے بندے کو اٹھا لیا جاتا ہے اور 6، 6 ماہ تک پتہ نہیں چلنے دیا جاتا کہ وہ کہاں ہے،جو بندہ اٹھایا جاتا ہے اسکے بھی کوئی حقوق ہوتے ہیں،جب اس طرح بندوں کو اٹھایا جاتا ہے تو نفرتیں ہی بڑھتی ہیں، ان لوگوں کو شرم آنی چاہئے، پنجاب حکومت کے لاء افسر نے جواب دیا ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مسنگ پرسن کا کیس ہے، درخواست گذار نے مسنگ پرسن کمیشن میں درخواست بھی دی تھی۔
جسٹس انوار الحق پنوں نے استفسار کیا کیا اس درخواست میں مسنگ پرسن کمیشن بھی فریق ہے؟ اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا نہیں یہ لوگ بعد میں مسنگ پرسن کمیشن گئے۔، درخواست گزار وکیل نے کہا ہمیں پولیس نے ہی کمیشن میں جانے کو کہا تھا۔ اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کیس مسنگ پرسن کا تھا اس میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو واقعی کسی آرگنائزیشن کا حصہ ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر خود چھپ جاتے ہیں۔ دوسرے اگر کسی ایجنسی کے پاس ہوں بھی تو کمیشن 45 دن میں اسکی بازیابی کرواتا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا آج تک کمیشن نے کتنے افراد بازیاب کروائے ہیں۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے جواب دیا کمیشن نے مورخہ سترہ مارچ دوہزار پچیس کو ملک کی تمام ایجنسیوں کی سربراہی میں JIT بنائی، فاضل جج نے ریمارکس دئیے انکو پتہ تو ہونا چاہئیے کہ مغوی کہاں ہے؟ ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد نوید نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے متعلقہ جگہ پر جاکر تفتیش کی جو شخص ساتھ اغوا ہونا بتایا گیا وہ بھی کچھ نہیں بتا رہا۔
جسٹس انوار الحق پنوں نے ریمارکس دئیے کون ایسے معاملات میں بتاتا ہے۔ جسٹس انوار الحق پنوں کیا باتیں کر رہے ہیں، جس ملک میں اسمبلیوں سے بندے اغواء ہوتے ہوں اور آپ یہاں ہمیں کہانیاں سناتے ہیں،ان پولیس والوں کے ساتھ والے کمرے میں بھی اگر بندہ موجود ہو تو انکی جرات نہیں ہوتی کہ وہ اسکو اس کمرے سے اٹھا لیں، ،یہاں پولیس والوں کے سچ اور جھوٹ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بنیادی حقیقت ہے، ان پولیس والوں کا اختیار بھی ایک حد تک جا کر ختم ہو جاتا ہے۔
پنجاب حکومت کے لاء افسر نے کہا معاملہ مسنگ پرسن کمیشن میں جا چکا ہے اور تمام ایجنسیوں کی JIT بھی بن چکی ہے، درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو مسنگ پرسن جے آئی ٹی میں شامل ہونے کہ ہدایت دی جائے۔
جسٹس انوارِ الحق پنوں نے پنجاب حکومت کے لاء افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا چیرمین مسنگ پرسن کمیشن تو فوت ہوگئے ہیں اب کون کام کر رہا ہے؟ درخواست نہیں نمٹا رہے آپکو مزید 15 دن کا وقت دے رہے ہیں۔ عدالت نے سماعت چودہ اپریل تک ملتوی کردی۔