ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی کے چھ لیڈر سینیٹ میں پہنچ گئے

Senate Election, KPK Assembly, reserved seats , PTI, Murad Saeed
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  سینیٹ کے آج ہونے والے الیکشن میں  پاکستان تحریک انصاف نے 6 اور دوسری پارٹیوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔

جنرل سات نشتوں پر پی ٹی آئی کے 4 اور اپوزیشن کے 3امیدوار کامیاب ہوئے۔  خواتین کی دو نشتوں پر ایک پی ٹی آئی (روبینہ ناز ) ،  ایک اپوزیشن نے جیتی ،  پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد  سینیٹر بن گئیں۔

ٹیکنوکریٹ کی دو نشتوں پر ایک پی ٹی آئی (اعظم سواتی )،   ایک اپوزیشن (جے یو آئی کے دلاور خان ) نے جیتی۔
 مسلم لیگ نون کے سینئیر لیڈر، سابق وفاقی وزیر امیر مقام کے صاحبزادے   نیاز احمد جنرل نشست پر ایوان بالا پہنچ گئے۔ نیاز محمد 18ووٹ لیکر سنیٹر منتخب ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر الیکشن آج ہوا۔ گزشتہ سال سینیٹ کی نصف خالی نشستوں پر الیکشن کے وقت خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ اور سپیکر نے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین اور اقلیتوں کے نمائندوں کو حلف نہیں لینے دیا تھا، حلف لئے بغیر یہ ارکان صوبائی اسمبلی سینیٹ کے الیکشن مین ووٹ نہیں دے سکتے تھے، اس صورتحال میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ کا الیکشن ہی ملتوی کر دیا تھا جو آج پیر کے روز ہوا۔

آج صبھ سے سہ پہر تک خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں سینیٹ کے الیکشن میں کھڑے امیدواروں کو ووٹ ڈالے گئے اور اسمبلی کے تمام 145 ارکان نے اپنے  ووٹ کاسٹ کئے۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 7 جنرل نشستوں میں سے 4 نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدوار  کامیاب ہوئے۔  مرادسعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور نورالحق قادری جنرل نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔

 3 جنرل نشستوں پر مسلم لیگ ن کے نیاز احمد، پیپلزپارٹی کے طلحہ محمود اور جےیوآئی کے عطاء الحق  منتخب قرار پائے۔

 پی ٹی آئی کے امیدوار مراد سعید  کو 26 ووٹ ملے، فیصل جاوید کو 22  اور  نورالحق قادری کو 21 ووٹ ملے۔  مرزا آفریدی کو 21 ووٹ ملے۔  پیپلزپارٹی کے طلحہ محمود نے 17 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے۔

خواتین کی 2 نشستوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی کی روبینہ ناز اور دوسری پر پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد کامیاب ہوئیں۔

خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کی امیدوار روبینہ ناز کو 89 ووٹ ملے ۔

ٹیکنوکریٹس کی نشستوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی کے اعظم سواتی اور دوسری پر جےیو آئی کے دلاورخان جیت گئے۔

پی ٹی آئی کے "ناراض امیدوار"  خرم ذیشان کو کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے درمیان 6 اور 5 کا فارمولہ پہلے ہی طے ہو گیا تھا اور یہ طے ہو گیا تھا کہ کوئی کسی کے ووٹ نہیں توڑے گا۔ 

ےیوآئی کے دلاور خان کو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر  54 ووٹ پڑے
 پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد نے ،52ووٹ حاصل کیے
 اعظم سواتی کو  89 ووٹ لملے۔ 
خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی سات جنرل، دو خواتین اور دو ٹیکنوکریٹس/علما کے لیے مختص نشستوں پر انتخاب ہوا۔

یہ نشستیں گذشتہ سال مارچ سے خالی پڑی تھیں کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر کے درمیان مخصوص نشستوں پر حلف کے تنازعے کے باعث ان پر انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔

اپوزیشن کی جانب سے جنرل نشستوں کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے عطاالحق، پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد طلحہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد امیدوار تھے، جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر جے یو آئی کے دلاور خان اور خواتین کی نشست پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد امیدوار تھے، یہ تمام شخصیات منتخب ہو گئیں۔

پی ٹی آئی کے ناراض اراکین میں سے وقاص اورکزئی، عرفان سلیم، ارشاد حسین اور عائشہ بانو الیکشن سے ایک دن پہلے انتخابی دوڑ سے الگ ہو گئے تھے  جبکہ خرم ذیشان  مقابلے میں شامل رہے لیکن انہیں ووٹ کوئی نہیں ملا۔