ویب ڈیسک: ممبئی ہائیکورٹ نے 2006 کے ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 12 ملزمان کو بری کر دیا، ان دھماکوں میں 189 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
عدالت نے ثبوتوں کے فقدان اور تفتیش میں خامیوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا، جس کے بعد 11 ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا گیا۔ بارہویں ملزم کی رہائی عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا، اور تفتیشی اداروں کی طرف سے پیش کردہ شواہد میں تضادات پائے گئے۔ بری کیے گئے افراد گزشتہ 18 سالوں سے جیل میں قید تھے۔
یاد رہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات بم دھماکے کیے گئے تھے، جنہوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان دھماکوں کے بعد درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ان 12 افراد پر دہشت گردی، قتل اور سازش کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالتی فیصلے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان اور ملزمان کے اہل خانہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے، تاہم حکومتی حلقوں اور بعض متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔