کمزور جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے: بلاول بھٹو

کمزور جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے: بلاول بھٹو


(سعدیہ خان) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت جتنی بھی کمزور ہو آمریت سے بہتر ہے۔ مسلم لیگ کی تاریخ رہی ہے کہ وہ الیکشن کی نہیں سلیکشن کی عادی ہے۔ پی ٹی آئی ہو یا (ن) لیگ یہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے شفاف انتخابات کو بھی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہاکہ نفرت کی سیاست سے ایک انتخاب تو جیتا جاسکتا ہے مگر لانگ ٹرم میں نقصان ملک کا ہی ہوتا ہے۔ پنجاب میں انتخابی مہم کے اختتام کے موقع پر انہوں نے کہاکہ انتہا پسندی کے حوالے سے کوئی ریڈ لائن طے کرنی پڑے گی۔ ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں اور اس کے کیا اثرات ہوںگے۔ مثبت انتخابی مہم پر عوام کی پذیرائی ملی اور امید پیدا ہوئی ہے ۔ مخصوص سیاسی جماعتوں اور اتحادی کی سہولت کاری کر کے انتخابات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔

 کراچی روانگی سے قبل بلاول ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں نفرت کی سیاست نہیں چلے گی۔ اس کے ذریعے ایک انتخاب تو جیتا جا سکتا ہے لیکن یہ ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ان کے نکلنے سے مثبت سیاست کی امید پیدا ہوئی ہے۔ نوجوانوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ نفرت کی نہیں مثبت اور ایشوز کی سیاست چلے گی اور جمہوریت میں اس کی گنجائش موجود ہے، پیپلز پارٹی عوام کے پاس واحد چوائس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک عوام نے بھرپور جوش کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انتخابات کے بعد جو بھی نتائج آئیں، میں اپنے سفر کو جاری رکھوں گا اور پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی سیاست کرتی ہے۔ ہم نے اپنے منشور میں لکھا ہے اور زندگی کا مشن ہے کہ بی بی کا وعدہ نبھانا ہے۔