ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی، کیس میں اہم پیشرفت

عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی، کیس میں اہم پیشرفت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 احتشام کیانی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت،وفاقی حکومت کے مطابق عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کی تجویز قابلِ عمل نہیں.

 وفاقی حکومت کے مطابق عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ نے اس حوالے سے عدالت میں تجویز دی تھی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا، حکومت عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت میں رہائی کی پٹیشن کی حمایت سے بھی پیچھے ہٹ گئی۔

عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت میں دائر پٹیشن کے ڈرافٹ میں شامل کچھ باتوں پر تحفظات ہیں۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کی پٹیشن کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کے حکومتی بیان نے عدالت کو حیرت میں ڈال دیا۔

عافیہ صدیقی کی امریکہ میں رہائی کی درخواست پر حکومت کو کیا اعتراضات ہیں؟ آئندہ ہفتے جواب طلب کرلیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے ہدایات لے کر بتائیں امریکی عدالت میں دائر عافیہ صدیقی کی پٹیشن پر کیا اعتراض ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی اور عافیہ صدیقی دونوں پاکستانی ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے استفسار کیا کہ شکیل آفریدی امریکہ کے لیے کیوں اہم ہیں؟

عدالتی معاون زینب جنجوعہ نے بتایا کہ شکیل آفریدی سزا یافتہ ہیں اپیل پشاور ہائیکورٹ میں زیرالتواء ہے، وکیل عمران شفیق کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی پر جاسوسی سمیت معاونت کا الزام ہے۔

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اس حوالے سے 19 فروری کو جواب جمع کروا دیا ہے، جوباییڈن نے درخواست مسترد کر دی لیکن خط کا جواب نہیں دیا۔

 جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا وائٹ ہاؤس نے خط کا جواب ہی نہیں دیا بلکہ acknowledge بھی نہیں کیا،سفارتی روایات کیا ہیں اگر کوئی ملک دوسرے کو خط لکھتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ 

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر آئندہ جمعے تک آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی، کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔