سٹی42: راولپنڈی کی احتساب عدالت سے پی ٹی آئی کے بانی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے ایک دن بعد بھارت کے میڈیا میں سنسنی خیز "انکشاف" کیا گیا ہے کہ "عمران خان کی اپیل کے بعد راولپنڈی میں ہائی الرٹ، 1300 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیئے گئے."
بھارت کی ایک ممتاز نیوز آؤٹ لیٹ نے اتوار کے روز لکھا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا کے خلاف پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کی احتجاجی اپیل کے بعد راولپنڈی میں 1300 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔"
پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا ک سنائے جانے کے کئی گھنٹے بعد ، پی ٹی ائی کے رہنما سلمان اکرم راجا نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ بانی نے عوام سے احتجاج کے لئے باہر نکلنے کی نئی اپیل کی ہے۔ کل ہفتے کے روز اڈیالہ جیل کے اندر لگائی گئی انسداد دہشتگردی عدالت میں بانی کے وکیل سلمان صفدر کو بلایا گیا تھا، انہوں نے بتایا تھا کہ بانی کے ساتھ ان کی مختصر گفتگو ہوئی ہے اور بانی نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے اور وہ بالکل دباؤ میں نہیں ہیں۔ سلمان صفدر نے کسی احتجاج کی اپیل یا کال کے بارے میں میڈیا کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اس کے کئی گھنٹے بعد سلمان اکرم راجا نے ایک اور رہنما اسد قیسر کے ساتھ بیٹھ پر ایک پریس کانفرنس کی اور انکشاف کیا کہ بانی نے آج عدالت میں سزا سنائے جانے کے وقت یہ پیغام بھیجا ہے کہ اب انہیں عدالتوں پر اعتماد نہیں اور عوام باہر نکل کر احتجاج کریں۔
آج سلمان اکرم راجا کے نیوز کانفرنس میں اس انکشاف کو لے کر بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ نے یہ کہانی شائع کی کہ اس اپیل کے بعد حکومت نے راولپنڈی میں سخت حفاظتی انتظامات کر دیے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج اور لیاقت باغ میں جماعتِ اسلامی کے اجتماع کے پیش نظر شہر بھر میں 1300 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
انڈین نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ حکام کے مطابق، کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی پلان کے تحت دو سپرنٹنڈنٹ پولیس، سات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، 29 انسپکٹرز و اسٹیشن ہاؤس آفیسرز، 92 اپر سب آرڈینیٹس اور 340 کانسٹیبلز کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں 32 پولیس پکٹیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ "حکام" کے حوالے سے ٹوٹل 470 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا حوالہ دینے کے ساتھ اس نیوز آؤٹ لیٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹوٹل 1300 اہلکار راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔
بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ عمران خان نے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر نکلنے اور پرامن تحریک کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔
سلمان اکرم راجا کی پریس کانفرنس کے بعد ایکس پر بانی کے اکاؤنٹ سے بھی یہ پیغام نشر کیا گیا کہ " قوم کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنی ہوگی۔"
بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ نے ایک پاکستانی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا، عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو بھی احتجاجی تحریک کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو متوقع قرار دیتے ہوئے اپنی قانونی ٹیم کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ کی اس سارے معاملہ سے "آگاہی" کا یہ عالم ہے کہ اس نے "توشہ خانہ ٹو کیس" کو "سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران ملنے والے تحائف کی کم قیمت ظاہر کرنے کا کیس" قرار دیا۔ بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ کی رپورٹ کا یہ حصہ ظاہر کرتا ہے کہ "رپورٹ" مرتب کرنے والوں کو توشہ خانہ ٹو کیس کے متعلق آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے معلوم کرنے پر بھی دو منٹ خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں،"یاد رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا تعلق مئی 2021 میں سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران موصول ہونے والے قیمتی تحائف سے ہے، جنہیں مبینہ طور پر کم قیمت ظاہر کیا گیا۔ تحقیقات میں تضادات سامنے آنے کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچا، جہاں اب سزا سنائی گئی ہے۔"