ویب ڈیسک :پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے ہی عوامی توجہ اور بحث کا مرکز رہا ہے، تاہم پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی بھاری فیسیں ایک مستقل اور سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں, تعلیمی اخراجات میں مسلسل اضافے پر والدین کی شکایات کے باعث یہ معاملہ متعدد بار عدالتوں اور متعلقہ حکام کے سامنے بھی آ چکا ہے، جہاں فیسوں کے تعین اور ریگولیٹری اقدامات پر غور کیا جاتا رہا ہے۔
ماضی میں والدین اور طلبہ کی جانب سے شکایات کی جاتی رہی ہیں کہ بیکن ہاؤس، لاہور گرامر اسکول اور دیگر نجی ادارے ماہانہ فیس 25 ہزار سے 50 ہزار روپے تک وصول کر رہے ہیں جو عام خاندانوں کے لیے ایک بڑا بوجھ ہے۔
ان اداروں کی فیسوں میں اضافے کو روکنے کے لیے قوانین موجود ہیں تاہم ان پر مؤثر عمل درآمد کا مسئلہ اب تک برقرار رہا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے بیکن ہاؤس، ایل جی ایس سمیت دیگر پرائیویٹ اسکولوں کی ماہانہ فیس کو صرف 10 ہزار روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا جس سے لاکھوں طلبہ اور والدین کو ریلیف ملے گا۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نے پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں اس طرح کی کوئی کمی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا,سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ خبریں فیک ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں اصلاحات پر ضرور کام کر رہی ہے لیکن ماہانہ فیس کو 10 ہزار روپے تک محدود کرنے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
رانا سکندر حیات نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ تعلیم کے شعبے سے متعلق جعلی خبریں پھیلائی گئی ہوں۔ پنجاب میں ماضی میں بھی اس نوعیت کی فیک خبروں کے باعث والدین، طلبہ اور تعلیمی اداروں میں بے چینی اور ابہام پیدا ہوتا رہا ہے۔