سٹی42: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین کی نو مئی تشدد کے آٹھ مقدمات میں ضمانت منطور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار (بانی پی ٹی آئی) پر سازش کے الزامات ثابت کرنے کا بہترین فورم ٹرائل کورٹ ہے۔ اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کے تحریری فیصلہ میں ملزم کے خلاف کیس کے شواہد کا مفصل جائزہ لینا ٹرائل کورٹ کا کام ہے، استغاثہ کا ضمانت کی ان درخواستوں میں مرکزی زور اس بات پر تھا کہ درخواست گزار نو مئی کو پر تشدد حملوں کی سازش میں ملوث ہے۔
چار صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے تحریر کیا۔ آج جمعرات کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بانی کی آٹھ مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا تھا اور ان کی ضمانت منطور کر لی تھی۔ بعد میں شام کو تحریری فیصلہ جاری کیا گیا ۔
اپنے فیصلہ میں عدالت نے لکھا، بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ ملزم کو ہر مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔
فیصلہ میں عدالت نے لکھا، لاہور ہائیکورٹ ضمانت کے مقدمے میں میرٹس کو زیر بحث لائی۔ مبینہ سازش سے متعلق شواہد ٹرائل کے دوران ہی جانچے جائیں گے ۔
بانی پی ٹی آئی کےخلاف شواہد کی سکروٹنی ضروری ہے،۔ شواہد کا جائزہ ٹرائل کورٹ ہی لے سکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں شواہد پر حتمی نوعیت کی آبرویشنز دیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مقدمات میں درج الزمات کی سازش تیار کی۔ پراسیکیوشن نے تین گواہوں اور الیکٹرانک شواہد کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی۔
پراسیکیوشن نے اعجاز چوہدری اور حافظ فرحت اور دیگر مقدمات کو بانی سے علحیدہ ہونے کا موقف اپنایا۔
تحریری فیصلہ میں عدالت عظمی نے قرار دیا کہ عدالت کی جانب سے کیس کے میرٹس پر آبزرویشن ٹرائل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ درخواست گزار پر سازش کے الزامات ثابت کرنے کا بہترین فورم ٹرائل کورٹ ہے۔ اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اعجاز چوہدری کے کیس ضمانت کے وقت تفتیش ہو چکی تھی اور مقدمہ کا ٹرائل شروع ہو چکا تھات، درخواست گزار کے مقدمات مین تفتیش اور ٹرائل کے مرحلے ابھی نہیں آئے۔ سلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔



