تعلیم وہ بنیاد ہے جس پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں، معاشرے ترقی کرتے ہیں اور معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ کسی ملک کی اصل طاقت اس کے وسائل یا انفراسٹرکچر میں نہیں بلکہ اس کی تعلیمی قیادت کی اہلیت میں مضمر ہوتی ہے۔ تاریخ اور موجودہ حالات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب تعلیم کے نظام کو کمزور کیا جاتا ہے تو قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے: ”اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے تباہ کرنا ہو تو اس کی تعلیمی نظام کو ناقص کر دو۔ اگر کوئی قوم اچھی تعلیم دینے میں ناکام ہو جائے تو وہ برباد ہو جائے گی۔“
بدقسمتی سے بہت سے ممالک میں، بشمول پاکستان، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں میرٹ پر مبنی تقرریوں کے حوالے سے سوالات جنم لیتے رہے ہیں۔ اگرچہ وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران اور دیگر عملے کی تعیناتی کے لیے مخصوص معیار موجود ہیں، لیکن ایک بڑی کمزوری ہمیشہ سامنے آتی ہے اور وہ ہے سرچ کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کا کردار۔ یہ کمیٹیاں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور وائس چانسلرز جیسے اہم عہدوں پر تقرریاں کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم اکثر معاملات میں ان کمیٹیوں کے اراکین کے انتخاب کے لیے کوئی واضح معیار یا جوابدہی کا نظام موجود نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ان کے فیصلے شفافیت اور غیرجانبداری سے محروم نظر آتے ہیں۔
سرچ کمیٹیاں دراصل اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کی نگران ہوتی ہیں۔ ان کی سفارشات طے کرتی ہیں کہ جامعات اور کمیشنز کی قیادت کون کرے گا، جو ہزاروں طلباء کے علمی مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ کمیٹیاں اہلیت، دیانتداری اور غیرجانبداری کے معیارات کے بغیر تشکیل پاتی ہیں تو اقربا پروری اور سیاسی مداخلت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جہاں امیدواروں کے لیے سخت اہلیتی معیار رکھے جاتے ہیں، وہاں فیصلہ کرنے والوں کے لیے کوئی واضح اصول موجود نہیں ہوتے۔ یہ عدم توازن پورے تقرری کے عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔سرچ کمیٹی ازخود محققین اور منصفین کا مجموعہ ہونی چاہیے.
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بارہا اپنے فیصلوں میں اس امر پر زور دیا ہے کہ تعلیمی شعبے میں تقرریاں صرف میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔ کئی عدالتی فیصلوں میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں کہ جامعات اور کمیشنز کی قیادت انصاف کے تقاضوں کے مطابق منتخب ہو۔ لیکن ان ہدایات پر عملدرآمد ہمیشہ تسلسل کے ساتھ نہیں ہو پایا۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی قیادت میرٹ اور شفافیت کے بغیر منتخب ہوگی تو وہ کس طرح اساتذہ، عملے اور طلباء کے لیے رول ماڈل بن سکیں گے؟ وہ اپنی مدتِ قیادت میں میرٹ کو کیسے یقینی بنائیں گے جب ان کی اپنی تقرری کا عمل ہی غیر شفاف رہا ہو؟
اعلیٰ تعلیم میں قیادت صرف انتظامی معاملات تک محدود نہیں ہوتی۔ ایک وائس چانسلر یا چیئرمین ایچ ای سی محض منیجر نہیں بلکہ ایک وژن رکھنے والا رہنما ہوتا ہے جو ادارے کو اعلیٰ معیار کی طرف لے جاتا ہے۔ قیادت کی خصوصیات، تعلقات بنانے کی صلاحیت اور اعتماد قائم کرنے کی اہلیت ناگزیر ہیں۔ سب سے بڑھ کر امیدوار کی دیانتداری اور ساکھ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک دیانتدار رہنما حکمرانی میں انصاف کو یقینی بناتا ہے، شراکت داروں کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور جوابدہی کے اصولوں کو قائم رکھتا ہے۔ اس کے برعکس متنازعہ تقرریاں ماضی میں جامعات اور ریگولیٹری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکی ہیں، جس کے نتیجے میں پالیسی کا تعطل، اعتماد کا فقدان اور معیار میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے: “کسی قوم کو تباہ کرنے کا یقینی طریقہ یہ ہے کہ تعلیم کو نااہل لوگوں کے سپرد کر دیا جائے۔”
اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مالی مسائل مزید اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ قیادت باصلاحیت اور وژن رکھنے والی ہو۔ بجٹ کی کمی نے جامعات کی ترقی اور پائیداری کو محدود کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں رہنماؤں کو فنڈ ریزنگ اور وسائل پیدا کرنے کی مؤثر حکمتِ عملی آنی چاہیے۔ صرف سرکاری فنڈنگ پر انحصار اب کافی نہیں رہا۔ جامعات کو صنعت، فارغ التحصیل طلباء، بین الاقوامی ڈونرز اور تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرنی ہوگی۔ ایسے رہنما جو بصیرت اور وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ اپنے اداروں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
نئی جامعات کا قیام بظاہر ترقی کی علامت ہے، مگر اگر ان کی قیادت باصلاحیت نہ ہو تو یہ ادارے محض ڈگری دینے والے ادارے بن جاتے ہیں، نہ کہ اعلیٰ تعلیم کے مراکز۔ اس لیے نئی قائم ہونے والی جامعات کے لیے تجربہ کار افراد کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ وہ مضبوط بنیادیں رکھ سکیں، معیاری تعلیم کو یقینی بنائیں اور تحقیقی کلچر پیدا کر سکیں۔ ناتجربہ کار یا سیاسی بنیادوں پر منتخب افراد کو ایسے حساس عہدوں پر لانا ادارے کی ترقی کے سفر کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یقینی بنانے کا ایک اور اہم پہلو جامعات کی خودمختاری کا احترام ہے۔ میرٹ پر منتخب قیادت ادارے کی آزادی کو بیرونی دباؤ سے بہتر طور پر بچا سکتی ہے۔ لیکن غیر میرٹ یا سیاسی تقرریاں اکثر جامعات کو بیرونی مداخلت کا شکار بنا دیتی ہیں، جس سے علمی آزادی اور اختراع متاثر ہوتی ہے۔ ایک خودمختار جامعہ، جس کی قیادت باصلاحیت ہو، تحقیق، نصاب کی ترقی اور طلباء کی کامیابی پر بھرپور توجہ دے سکتی ہے۔
تعلیم میں میرٹ پر مبنی تقرریاں محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کی روح ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے لیے جو اعلیٰ تعلیم کو ترقی دینا چاہتے ہیں، اس اصول کو غیر متنازعہ طور پر اپنانا ضروری ہے۔ شفاف، منصفانہ اور دیانتداری پر مبنی عمل کے ذریعے تمام قیادت کی تقرریاں ہونی چاہئیں، حتیٰ کہ سرچ کمیٹیوں کے اراکین کا انتخاب بھی انہی اصولوں کے تحت کیا جانا چاہیے۔ تب ہی اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنے اصل مشن کو پورا کر سکیں گے کہ وہ باصلاحیت گریجویٹس، اختراعی محققین اور ذمہ دار شہری پیدا کریں۔
کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے اساتذہ اور تعلیمی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر یہ ذمہ داری اہل اور بصیرت رکھنے والے افراد کو سونپی جائے تو تعلیم قومی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بصورت دیگر یہ بربادی کا ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر