ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ میں ڈسٹرکٹ کمپلینٹ آفیسر کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر اہم پیش رفت

لاہور ہائیکورٹ میں ڈسٹرکٹ کمپلینٹ آفیسر کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر اہم پیش رفت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں ڈسٹرکٹ کمپلینٹ آفیسر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہونے کے بعد کیس نمٹا دیا گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے شہری شہباز رشید کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ راحیلہ عدالت میں پیش ہوئیں اور کیس سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2019 میں ایس پی عاصم ناصر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود طویل عرصے تک عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔

سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا میں فیصل اللہ کے خلاف باؤنس چیک کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے اور ملزم کی گرفتاری عمل میں نہ آنے پر عدالت کی جانب سے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم مسلسل عدم گرفتاری کے باعث روپوش رہا، جس پر اسے اشتہاری قرار دے دیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کیس کو داخل دفتر کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔عدالت نے رپورٹ کا جائزہ لینے اور حکومتی وکیل کے بیان کو ریکارڈ پر لاتے ہوئے قرار دیا کہ جب عدالتی حکم پر عملدرآمد ہو چکا ہے تو توہینِ عدالت کی کارروائی جاری رکھنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے توہینِ عدالت کی درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے آئندہ ایسے معاملات میں بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ شہریوں کو غیر ضروری تاخیر اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Ansa Awais

Content Writer