ویب ڈیسک : جنوبی افریقہ کے خلاف ڈیبو کرنے والے آصف آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پریکٹس سیشن میں آنکھ پر گیند لگی تو ڈاکٹر نے کہا کئی ماہ کرکٹ نہیں کھیل سکوں گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے بھائی عابد آفریدی کو کرکٹ کھیلتے دیکھ کر شوق پیدا ہوا اور 2003 میں پروفیشنل کرکٹ شروع کی۔ فرسٹ کلاس میں کافی محنت کی، ریڈبال کا کوئی سیزن نہیں چھوڑا، ہر ڈومیسٹک سیزن میں محنت کی، جس کا پھل ٹیسٹ ڈیبو کی صورت میں ملا۔
آصف آفریدی نے کہا کہ پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) میں لاہور قلندرز نے منتخب کیا۔ شاہین آفریدی نے پی ایس ایل میں کافی اعتماد دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت کی جب کال آئی تو یقین نہیں آرہا تھا۔ والدہ کو سب سے پہلے ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت کا بتایا۔