سٹی42: دنیا کے پلوٹو سیارہ کے زیراثر آنے کے بعد فلکیات دانوں نے بتایا تھا کہ اب بڑے انقلاب آئیں گے، حیران کر دینے والے کام ہوں گے اور بہت کچھ , جو اب تک غیر نمایاں تھا , وہ ایسے چمکے گا کہ صرف وہی دکھائی دے گا; دنیا کے باقی خطوں کے متعلق تو فلکیات کے ماہر ہی بتائیں گے، پاکستان کے آناً فاناً دنیا کے افق پر ابھرنے اور چمکنے کا مشاہدہ ہم خود کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے بنائے ہوئے ایروناٹیکل انجینئیرنگ ٹیکنالوجی کے شاہکار جے ایف تھنڈر17 کا خریدار مل گیا۔ پاکستان اور دوست ملک نے جے ایف تھنڈر طیاروں کی خریداری کے سودے پر دستخط کر لئے.
دبئی ائیر شو 2025 میں جے ایف17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا اور دوست ملک کے ساتھ جے ایف17 تھنڈر کی خریداری سے متعلق ایم او یو پر دستخط ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کا دستہ دبئی ائیر شو 2025 میں شرکت کے لیے یو اے ای میں موجود ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ائیر شو کے دوران جے ایف17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ معرکہ حق میں کارکردگی نے جے ایف 17 تھنڈر کو قابل اعتماد لڑاکا طیارے کے طور پر نمایاں کیا اور مختلف ممالک نے جے ایف17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ذمہ دار عسکری ذرائع نے بتایا کہ ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف17 تھنڈر کی خریداری سے متعلق میمورنڈم آف انڈرسٹینڈِنگ پر دستخط ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بنے جدید جنگی طیارے جے ایف تھنڈر17 کی فروخت کے ایم او یو پر دستخط ہونے سے پاکستان بڑی چھلانگ لگا کر جدید ترین طیارے ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ حریف ملک اب بھی خرید خرید کر ہمارے شاہینوں کے آگے ڈال دینے کی مشق سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
عسکری ذرائع نے بتایا کہ جے ایف تھنڈر 17کی خریداری کے لئے آرڈر ملنا دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور صنعتی تعاون میں ایک نمایاں سنگ میل ہے۔
جے ایف تھنڈر17 کی فروخت کا یہ معاہدہ ہمارے انڈیجینس طیارے کی عالمی مقبولیت کا اور پاکستان کی ایرونیٹیکل انجینئیرنگ انڈسٹری پر مستقل بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔
دبئی ائیر شو میں پاکستان کے اپنے بنائے ہوئے معروف سپر مشاق ٹرینر طیاروں نے بھی شرکت کی۔
پلوٹو اور پاکستان
علم نجوم میں، بونا سیارہ تصور کیا جانے والا، از حد طاقتور اثرات کا حامل سیارہ پلوٹو یقینی طور پر 19 نومبر 2024 کو انقلاب آفرین برج "دلو" (Aquarius) میں منتقل ہوا تھا۔ پلوٹو کے آئندہ 19 سال تک ، 8 مارچ 2043 تک یہیں مقیم رہنے کی امید ہے۔
پلوٹو کا ایکویرئیس (دلو) میں منتقل ہونا ایک اہم نجومی واقعہ ہے جو تقریباً ہر 248 سال بعد ہوتا ہے۔ پلوٹو سیارے کے سست مدار کا مطلب ہے کہ اس کی دلو میں حرکت نسل در نسل اثرات ڈالے گی۔ ان اثرات کا لازمی تعلق بڑی سماجی اور تکنیکی تبدیلیوں سے ہے۔
پلوٹو کا دلو میں موجود ہونا دنیا کیلئے کیا معنی رکھتا ہے
فلکیات (نجوم/ آسٹرونومی) کے عالموں کو یقین ہے کہ آج کل سے لے کر جنوری 2044 تک کی مدت کے دوران ٹیکنالوجی، اختراع، سماجی انصاف، اور طاقت کی دوبارہ تقسیم سے متعلق گہری تبدیلیاں آنے کی توقع ہے، جو کہ 18ویں صدی کے آخر میں (1778-1798) امریکی اور فرانسیسی انقلابات کے واقعات والے دور جیسے ایک دور کی عکاسی کرتی ہے۔
پلوٹو کا دلو میں موجود ہونا جن کو راس آئے گا، وہ خاک سے اٹھ کر فلک تک عروج دیکھیں گے۔ یہ کون ہوں گے، جاننے اور سمجھنے کے لئے نجوم کے ماہرین انفرادی تجزیہ کر کے ہی تعین کر سکتے ہیں؛ بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ پلوٹو کا دلو میں آنا پاکستان کی مملکتِ خداداد کو خوب راس آیا ہے۔ اس دورانیہ میں پاکستان گہری سازشوں کے جال توڑ کر بحالی کی راہ پر واپس آیا۔ پاکستان کی معیشت مالیاتی ٹرمز کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکنے کے بعد بحال ہوئی۔ اب پاکستان دہشتگردی کو عروج کی طرف لے جانے والی سازشوں کے جال توڑ کر دہشتگردوں کا مکھی مچھروں کی طرح صفایا کر رہا ہے۔
اس دوران ہی پھر یہ ہوا کہ مئی کے پہلے ہفتے، روایتی حریف نے پاکستان پر بلا اشتعال شب خون مارا اور جواب میں وہ ہوا جس کا مطالعہ کرنے کے دنیا کے ماہرین مشتاق ہیں۔ ہوائی جنگ کی غیر معمولی ترین "ڈوگ فائیٹ" ہوئی اور پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے انتہائی مختصر دورانیہ میں (غالباً 50 منٹ سے کچھ زیادہ) روایتی حریف کے 7 جدید ترین لڑاکا طیاروں کو فضا میں مار گرایا۔
یہی نہیں 10 مئی کو آدھی رات کے بعد پاکستان نے روایتی حریف کے خطرناک میزائلوں کےحملوں کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ اور جواب میں صبح فجر کے بعد جب میزائلوں، جنگی طیاروں، زمینی فوج اور سائیبر جنگ بازوں کی مربوط جنگ آغاز کی تو صرف چار ہی گھنٹوں میں حریف گھٹنوں پر آ گیا۔
دو ایٹم بم رکھنے والے ملکوں کی یہ پہلی براہ راست جنگ تھی، جس نے دنیا کو لرزا ڈالا اور پاکستان کے دھندلے ستارے کو آسمان پر یوں چمکایا کہ اب آسمان کی طرف اٹھنے والی کوئی بھی آنکھ اس کی دمک سے خیرہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔