ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

6 سال قبل اغوا ہونے والی فوزیہ بی بی کی بازیابی سےمتعلق کیس کی سماعت،اہم انکشافات

6 سال قبل اغوا ہونے والی فوزیہ بی بی کی بازیابی سےمتعلق کیس کی سماعت،اہم انکشافات
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں چھ سال قبل لاپتہ ہونے والی فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے، جبکہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی، تفتیشی عمل اور ریکارڈ ایڈمنسٹریشن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ڈی آئی جی انویسٹیگیشن عدالت میں پیش, جواب نہ ملنے پر ریکارڈ تحویل میں لیا گیا.

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی ،سماعت کے دوران ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوئے، تاہم وہ عدالت کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تمام ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا اور ریمارکس دیے “میرے کسی سوال کا آپ کے پاس جواب نہیں۔ پولیس فائل دیکھ کر فیصلہ کروں گی۔ سختی کرنا پڑی تو وہ بھی ہوگی۔”
کیس کی فائلیں مختلف افسران کے پاس رہنے کا انکشاف ہوا ،دورانِ سماعت ڈی آئی جی نے بتایا کہ کیس کی فائل کبھی ڈی ایس پی CCD حسنین حیدر اور کبھی عثمان حیدر کے پاس رہی۔چیف جسٹس نے اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ  آپ کی باتیں کچھ اور ہیں، ریکارڈ کچھ اور ہے۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر مغوی کی تصویر لیک ہونے پر سخت اظہارِ ناراضگی کیا ،سب سے سنگین معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت کو بتایا گیا کہ فوزیہ بی بی کی تصویر پولیس ریکارڈ سے لیک ہو کر ایک کانسٹیبل کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر استعمال ہوئی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے “تفتیش کا ریکارڈ صرف تفتیشی کے پاس ہونا چاہیے تھا۔
تصویر ٹک ٹاک تک کیسے پہنچی؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی سنگین خرابی ہے۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی پولیس افسر تفتیشی تصویر لے کر اپنے ٹک ٹاک پر استعمال کرے.عدالت نے کانسٹیبل اکرام کے خلاف محکمانہ کارروائی  نہ ہونے پر بھی اظہار ناراضگی کی حکم دینے کا بھی عندیہ دیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے بھی استفسار کیا کہ “والدین نادرا میں بچوں کا اندراج کیوں نہیں کرواتے؟اگر ریکارڈ ہوتا تو مغوی کی تلاش میں آسانی ہوتی۔کوئی جن بھوت کسی کو غائب نہیں کرسکتا۔درخواست گزار کی جانب سے جواب دیا گیا کہ سسرال کا مؤقف ہے کہ “جنات لے گئے”، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ “ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص دنیا میں ہو اور اسے تلاش نہ کیا جاسکے۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے عدالت کو بتایا کہ مشتبہ افراد کو چیک کیا جا رہا ہے۔خاتون اپنے گھر سے سامان پیک کرکے گئی تھیں۔ان کی شادی کی تصاویر نادرا کو فراہم کرکے ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔ستمبر سے پہلے کیس CCD کے پاس تھا۔حساس اداروں سے بھی مغوی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کروائی گئی ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے حکم دیا کہ پولیس  گزشتہ چھ ماہ پرانا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔
،حسنین حیدر کے پاس رہنے والی ڈائری اور فائل بھی عدالت میں جمع کروائی جائے۔مغوی کی زندہ یا متعلقہ معلومات فوری طور پر عدالت کے سامنے لائی جائیں۔
اگر ریکارڈ میں کوئی گڑبڑ پائی گئی تو تمام متعلقہ افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔عدالت نے واضح کیا کہ کیس انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور پولیس کو سنجیدہ تفتیش کرنا ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے: “چیزیں تب مشکل ہوتی ہیں جب بروقت اقدامات نہ کیے جائیں۔حساس ریکارڈ کی رسائی کانسٹیبل تک کیسے ہوئی؟ یہ لمحہ فکریہ ہے۔سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی.

Ansa Awais

Content Writer