سٹی 42: عیدالاضحیٰ کے موقع پر کانگو وائرس کا بڑھتا خطرہ ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے تشویش کا اظہار کردیا۔
پی ایم اے کے مطابق کانگو وائرس خطرناک، جان لیوا بیماری ہے، شرح اموات 10 سے 40 فیصد تک ہے، عیدالاضحیٰ سے قبل ملک گیر مویشی نقل و حرکت سے کانگو وائرس پھیلاؤ خدشہ بڑھ گیا،
کانگو وائرس متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے، جانوروں کے خون، رطوبتوں سے منتقل ہوتا ہے،کانگو وائرس انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوسکتا ہے،شہری علاقوں میں بھی کانگو وائرس کے کیسز میں اضافے ہوا، کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور کے داخلی راستوں پر ہیلتھ چیک پوائنٹس قائم کئے جائیں۔
مویشی بردار گاڑیوں کیلئے اینٹی ٹِک اسپرے سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے،مویشی منڈیوں میں چیچڑ مار اسپرے اور آلائشوں کی محفوظ تلفی یقینی بنائی جائے،اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز فعال، ڈاکٹرز کیلئے حفاظتی سامان فراہمی یقینی بنائی جائے،قصابوں کیلئے دستانے، ماسک اور حفاظتی لباس کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے، مویشیوں کو ننگے ہاتھ لگانے اور چیچڑ مسلنے سے گریز کریں، کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے مکمل آستین والے کپڑے اور بند جوتے پہنیں، مویشیوں کے کان، گردن، نرم جلد والے حصے احتیاط سے چیک کئے جائیں، تیز بخار، جسم درد، قے اور چکر آنا کانگو وائرس ابتدائی علامات ہیں،
علامات ظاہر ہوں تو مریض کو فوری الگ کر کے اسپتال منتقل کیا جائے۔احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی اور خاندان کی حفاظت یقینی بنائی جائے.

