ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی

نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 امانت گشکوری:سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قتل کے جرم میں دی گئی سزائے موت برحق ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی جس میں جسٹس باقر نجفی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان بھی شامل تھے۔ عدالت میں مرکزی مجرم کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل مکمل کیے، جبکہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کی نمائندگی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر مبنی ہے، اور ان شواہد کا عدالت میں غیر مبہم اور واضح ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوٹیج عدالت میں چلائی گئی مگر مکمل نہ ہو سکی، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت شواہد کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتی۔

شریک ملزمان چوکیدار اور مالی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا جرم صرف گھر میں موجود ہونا تھا۔ انہیں 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اگر انہوں نے مقتولہ کو نہ روکا ہوتا تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تنخواہ سے زیادہ کام کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

واضح رہے کہ نور مقدم قتل کیس جولائی 2021 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب سابق سفیر کی بیٹی کو ظاہر جعفر نے اپنے گھر میں بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ پورے ملک میں غم و غصے کا باعث بنا اور اسے خواتین کے خلاف تشدد کی علامتی مثال کے طور پر دیکھا گیا۔