احمد منصور: ایس400 پر تعینات بھارتی سپاہی رام بابو سنگھ کی ہلاکت پر بھارتی فوج کا جھوٹا بیانیہ,بھارتی فوج آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد اپنے فوجیوں کی ہلاکت چھپانے میں مصروف۔سپاہی رام بابو سنگھ کی جنگی ہلاکت کو سڑک حادثہ ظاہر کرنے لگی۔
ابتدائی اطلاعات میں رام بابو کی ہلاکت کو بھارتی فوج نے دوران جنگ ہلاک ہونا قرار دیا,این ڈی ٹی وی کے مطابق بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے 50 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا,بھارتی فوج نے بعد میں اس کی تردید کی ,اور موت سڑک حادثہ قرار دے کر وعدہ شدہ 50 لاکھ معاوضہ دینے سے انکار کردیا.
بہار سے تعلق رکھنے والا جوان، رام بابو سنگھ، مئی 2025میں بھارت کے اہم دفاعی نظام S-400 پر تعینات تھا, بابو کی موت سے متعلق بھارتی فوج کی طرف سے فراہم کردہ معلومات متضاد ہیں, ابتدائی اطلاعات میں رام بابو کی ہلاکت کو بھارتی فوج نے دوران جنگ ہلاک ہونا قرار دیا.
موت کی اصل وجہ پر فوج اور حکومت کی متضاد کہانیاں رام بابوکے خاندان کو انصاف کے لیے جدوجہد پر مجبور کر رہی ہیں, بھارتی انتظامیہ کی بے حسی اور لاپرواہی نے رام بابو کے خاندان کے حق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے, جنگ میں موت کو حادثہ قرار دے کر خاندان کو معاوضے سے محروم کر دیا گیا.
ڈسٹرکٹ آفیسر منیش کمار کے مطابق’ ہیڈکوارٹرز نے باضابطہ طور پر اطلاع دی کہ رام بابو کی موت کو 'فزیکل casuality' قرار دیا گیا ہے، 'فزیکل casuality' کا مطلب ہے کہ سپاہی کی موت جنگ یا آپریشنل مصروفیت کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوئی ہے۔
جب تک بھارتی فوج رام بابوکو باضابطہ طور پر جنگ میں دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے کا نہ کہہ دیں تب تک کسی بات کی کوئی اہمیت نہیں،سیاسی رہنماؤں نے رام بابو کی ہلاکت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے رقم کا اعلان کیا ، انتظامیہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
رام بابوکی بیوہ انصاف کی منتظر، مودی سرکار کی بے حسی برقرار ہے، مودی سرکار رام بابو کی موت کا معاوضہ دینے کے بجائے اس کی قربانی سے ہی انکاری ہے، رام بابو کی بیوہ ماں بننے والی ہے، مگر مودی سرکار کی بے حسی قائم ہے۔
رام بابوکی بیوہ انجلی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کبھی وزیراعلیٰ یا وزراء سے مدد طلب نہیں کی تھی, مدد ان کی طرف سے اعلان شدہ تھی، وعدہ کی گئی رقم مانگنا ذلت کی بات ہے، معاوضے کے لیے جدوجہد بہت تکلیف دہ ہے،ہم انصاف کے منتظر ہیں۔
رام بابو کے بھائی اکھلیش کمار کے مطابق’ سیاست دان میرے بھائی کی موت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ووٹ لینا چاہتے ہیں‘‘ ہم ہار نہیں مانیں گے، ہم طویل جدوجہد کے لیے تیار ہے۔