شہر بھر سے ( زین مدنی ) لاک ڈاؤن کے باعث شہر لاہور کے تیس سے زائد سینما گھروں کے ملازمین بے روزگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔سینما بند ہونے سے نہ تو انہیں تنخواہوں کی ادائیگی ہوئی ہے اور نہ ہی انہیں کسی نے پوچھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ ساڑھے تین ماہ سے زائد ہوگئے ہیں جب ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے شہر لاہور کے تھیٹر اور سینما گھر بند کردیئے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بڑے بڑے شاپنگ مالز میں قائم سینما گھروں میں قریبا دو سو سے زائد سینما ملازمین ٹیکنیشنز سمیت دیگر عملہ تھا جو اب بے روزگار ہے۔
دوسری جانب ملٹی پلیکس سینما گھر تو بند ہے ہی لیکن ساتھ ہی شہر کے سنگل سکرین سینما جہاں اب بھی پرانی پاکستانی فلموں کی نمائش ہوتی ہے وہاں کے ملازمین بھی بے روزگار ہیں اور حکومت نے ان بے روزگار دیہاڑی دار ملازمین کے لئے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی وہ حکومت کی کسی مستحق افراد کی لسٹ میں ہیں۔
یاد رہے کورونا وائرس سے بگڑتی صورتحال کی وجہ سے عید الاضحیٰ پر بھی فلمیں سینما گھروں کی زینت نہیں بنیں گی، فلم ڈسٹری بیوٹرز نے فلمیں کورونا وائرس کے اختتام تک ریلیز نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ کورونا وائرس کے باعث جاری صورتحال کے پیش نظر فلم ڈسٹری بیوٹرز نے عید الاضحیٰ پر بھی فلمیں سینما گھروں میں ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عید الفطر کے موقع پر سینما گھر بند رہنے کی وجہ سے قریبا پانچ کروڑ سے زائد کے بزنس سے سینما محروم رہا، تین ماہ میں ایک تحقیق کے مطابق سینما انڈسڑی کو بیس کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور مزید نقصان ہوگا کیونکہ کورونا کے اختتام تک سینما گھروں کو نہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔