ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آج پٹرول مہنگا ہو گا یا سستا؟ خام تیل 90 ڈالر سے تجاوز کر گیا

حالیہ پٹرول اور ڈیزل میں اضافہ صرف تین دن کیلئے کیا گیا تھا جبکہ 20 جولائی کو دوبارہ قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا تھا

آج پٹرول مہنگا ہو گا یا سستا؟ خام تیل 90 ڈالر سے تجاوز کر گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی منڈی کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 2.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 90.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 2 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو کر 84.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات جاری کی ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد ناکارہ ہو گئے، تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

ادھر برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے سمندری نقل و حمل سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی تقریباً 20 فیصد تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اگر اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور توانائی کے نئے بحران کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ انہی دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کس حد تک متاثر ہوتی ہے اور عالمی منڈیاں اس صورتِ حال پر کس نوعیت کا ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ پٹرول اور ڈیزل میں اضافہ صرف تین دن کیلئے کیا گیا تھا جبکہ 20 جولائی کو دوبارہ قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اضافہ کردیا گیا ہ، جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 310.71 روپے سے بڑھ کر 316.15 روپے مقرر  ہوگئی ہتھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فی لیٹر ڈیزل 31 روپے 5 پیسے مہنگا ہونے کے بعد اب 323.30 روپے سے بڑھ کر 354.35 روپے لیٹر کردیا گیا تھا۔