ویب ڈیسک خیبرپختونخوا اسمبلی کا مخصوص نشستوں کی حلف برداری کے لیے طلب کیا گیا اجلاس اڑھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور کورم پورا نہ ہونے پر 24 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا۔
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس تاخیر سے شروع ہوا، پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا، اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی ارکان نے کورم کی نشاندہی کر دی۔شیر علی ارباب کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر سپیکر بابر سلیم سواتی نے گنتی کی ہدایت کی، حکومتی بنچ پر صرف 3 ارکان موجود تھے۔
حکومتی ارکان نے کہا کہ کورم پورا نہیں، اجلاس نہیں ہو سکتا جس پر اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان سے کہا کہ آپ کے ارکان نا سمجھ ہیں، انہیں سمجھا دیں۔پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی نے کہا کہ آپ منتخب ارکان کو حلف لینے سے روک نہیں سکتے، آپ تلاوت کے دوران کورم کی نشاندہی نہیں کر سکتے، پہلے بھی ذمہ داران نے حلف لینے سے انکار کیا تو پھر دوسرے لوگوں نے حلف لے لیا۔ن لیگی رکن اسمبلی صوبیہ شاہد نے سپیکر سے کہا کہ اگر آپ حلف نہیں لیتے تو ہم چیف جسٹس کو یہاں سے خط لکھ دیتے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر نے گنتی پر ارکان کو بتایا کہ اس وقت اسمبلی میں ارکان کی تعداد 25 ہے، اب کیا کریں جب کورم پورا نہیں، اس کے بعد سپیکر کی ہدایت پر گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں۔سپیکر بابر سلیم سواتی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ کورم پورا نہیں ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کیا جاتا ہے، اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہی وہ سپیکر اسمبلی اٹھ کر چلے گئے، اجلاس ملتوی ہونے پر حکومتی ارکان نے جشن منایا۔بعدازاں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے کہا کہ کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کیا۔
قبل ازیں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیف وہیب اکبر ایوب کی زیر صدارت ہوا جس میں پی ٹی آئی ارکان نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور شریک نہ ہوئے۔
وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہمارے ارکان ناراض ہیں، اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں مخصوص نشستوں پر منتخب 25 ارکان سے حلف لیا جانا تھا جس میں 21 خواتین اور 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین شامل ہیں۔
جمعیت علماء اسلام اور ن لیگ کی 7 ، 7 خواتین پیپلزپارٹی کی 4 خواتین نے حلف اٹھانا تھا، اے این پی کی 2 اور پی ٹی آئی پی کی ایک خاتون سے حلف لیا جانا تھا، جے یو آئی کی دو اقلیت نشست پر منتخب اراکین عسکر پرویز اور گورپال سنگھ سے بھی حلف لیا جاناتھا۔
ن لیگ کے سریش کمار اور پیپلزپارٹی کے کوٹے پر منتخب بہاری لالا نے بھی آج حلف اٹھانا تھا۔
یاد رہے کہ اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلی اجلاس میں اگر کورم کی نشاندہی کی گئی تو ہمارے پاس آپشن ہے، حلف برداری ہوگی، اگر نہیں ہوتی تو یہ پی ٹی آئی ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن اور حکومت کا فارمولہ طے ہے، اگر آج یا کل حلف نہ لیا گیا تو عدالت جائیں گے۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے مزید کہا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں ہماری بات حکومت سے ہوئی ہے، پی ٹی آئی کے کارکن اگر ناراض ہیں یہ ان کا مسئلہ ہے، سینیٹ الیکشن کے حوالے سے ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔