ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو 15 سال میں کیا دیا، تفصیل طشت از بام

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو 15 سال میں کیا دیا، تفصیل طشت از بام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: وفاقی حکومتوں نے خیبر  پختونخوا  مین پی ٹی آئی کی حکومت کو 15 سال میں  8400 ارب روپے سے زائد  فراہم کئے۔ ان رقوم میں این ایف سی کے تحت ملنے والی رقوم بھی شامل ہیں۔ اس وقت وفاقی حکومت نے این ایف سی کی مد میں خیبر پختونخوا کی حکومت کا ایک روپیہ بھی نہیں دینا۔

آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفای وزارتِ خزانہ نے ایک دستاویز جاری کی ہے جس مین گزشتہ پندرہ سال کے دوران خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو فراہم کی گئی تمام رقوم کی تفصیل درج ہے۔ اس دستاویز کے مطابق پندرہ سال کے دوران پی ٹی آئی کی حکومتوں کو ٹوٹل 8400 ارب روپے سے زیادہ رقوم فراہم کی گئیں۔

اس دستاویز مین وزارتِ خزانہ نے وضاحت کے ساتھ بتایا کہ این ایف سی کی مد میں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کے تمام واجبات ادا کئے ہوئے ہیں اور ایک روپیہ بھی باقی نہیں۔ 
 وزارت خزانہ کے مطابق 2010 سے این ایف سی کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کو 5 ہزار  867 ارب روپے ادا کیے گئے، این ایف سی کے تحت صوبوں کو ہر 15 دن میں فنڈز ملتے ہیں اور خیبر پختونخوا حکومت کے کوئی بقایا جات نہیں ہیں۔
 
 2010 سے دہشت گردی کے اضافی بوجھ پر خیبر پختونخوا حکومت کو ایک فیصد اضافی فنڈ دیے گئے ، اب تک اس مد میں 705 ارب روپے دیے گئے: وزارت خزانہ — فوٹو:فائل
دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو 15 سال میں وفاق سے کل ملا کر  8 ہزار 400 ارب روپے سے زائد ملے۔

دستاویز کے بتایا گیا ہے کہ 17 دسمبر دو ہزار پچیس سے خیبر پختونخوا حکومت کو 46ارب روپے سے زائد فندز جاری ہوئے۔  2010 سے دہشت گردی کے اضافی بوجھ سے نمٹنے کے لئے  خیبر پختونخوا حکومت کو ایک فیصد اضافی فنڈ دیے گئے ۔اب تک اس مد میں 705 ارب روپے دیے گئےہیں۔

دستاویز کے مطابق نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے وفاق نے اپنے حصے سے 2019 سے اب تک 704 ارب روپے خیبر پختونخوا کی پی ٹی اائی حکومت کو منتقل کیے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاق سے صوبے کو صرف 2200 ارب روپے ملے ہیں۔ وفاقی حکومت نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ بائیس سو ارب نہیں بلکہ اس سے چار گنا سے بھی زیادہ  84 سو ارب روپے دیئے جا چکے ہیں اور کسی بھی مد میں کوئی رقم بقایا نہیں ہے۔