ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  نو مئی کے دومقدمات کے فیصلے؛ یاسمین راشد اور دیگر کو بیس بیس سال کی مزید سزائیں

  نو مئی کے دومقدمات کے فیصلے؛ یاسمین راشد اور دیگر کو بیس بیس سال کی مزید سزائیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  2023 میں نو مئی کو لاہور میں پر تشدد حملوں کے دو مزید مقدمات کے فیصلے سنا دیئے گئے۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے  کلمہ چوک پر کینٹینر   اور گلبرگ میں پولیس  کی گاڑی جلانے کے مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے درجنوں ملزموں کو بری کر دیا اور دو درجن کے لگ بھگ کو مجرم قرار دے کر قید کی سزائیں سنا دیں۔ مجرم قرار پانے والوں میں پی ٹی آئی کی مئی 2023 میں پنجاب کی صدر، سابق صوبائی وزیر یاسمین راشد بھی شامل ہیں، ان کے ساتھ محمود الرشید، عمر سرفراز، اعجاز چوہدری سرفہرست ہیں۔ 

عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری  اور عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کو دنوں مقدمات میں 10٫10 سال قید کی الگ الگ سزائیں سنائی ہیں۔

آج رات تھانہ نصیر آباد کے مقدمہ 1078/23 اور تھانہ گلبرگ کے مقدمہ 1280/23 کا فیصلہ آیا ہے۔

ان دو مقدمات میں پی ٹی آئی کے  رہنماؤں کو  دس دس سال قید کی سزا ئیں سنائی گئی ہیں۔  انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید  نے کوٹ لکھپت جیل میں عدالت لگا کردونوں مقدمات کے الگ الگ فیصلے سنائے۔

ملزم، اور  ان کے وکلا عدالت میں موجود تھے۔

یہ دونوں مقدمے تقریباً دس سال تک چلے۔ اس دوران ہونے  والی طویل سماعتوں میں پراسکیوشن نے ملزموں کے خلاف 78 گواہ  پیش کئے تھے۔  

گلبرگ میں نو مئی 2023 کو گاڑیاں جلانے کے  مقدمہ میں 33  ملزمان کا چالان جمع کرایا تھا ۔

چار ملزم ٹرائل کے دوران  سزا کے ڈر سے  فرار ہو کر روپوش ہو گئے، یہ لوگ عدالت کے حکم سے مفرور اشتہاری ملزم قرار پا گئے ۔کلمہ چوک کینٹینر کیس میں حماد اظہر ٫مراد سعید٫زبیر نیازی اور اسلم اقبال سمیت 12 ملزم اشتہاری ملزم ڈیکلئیر ہوئے ۔

کلمہ چوک کینٹینر جلانے کے مقدمہ میں 36 ملزموں کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

نو مئی 2023 کو لاہور  میں ریاستی اداروں، تھانوں  پر  اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر بدترین حملے ہوئے تھے۔ ان سنگین جرائم کے 14 مقدمے درج ہوئے۔ آج شب کے دو فیصلے ملا کر، ان 14 میں سے ،7 مقدمات کے فیصلے ہو گئے ہیں ۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی کے مقدمات مین ملزم نامزد کئے گئے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں  کو بغاوت اور  فسادات پر اکسایا ۔ ان لوگوں کے اکسانے پر درجنوں افراد ریاستی اداروں، تنصیبات اور پولیس پر حملہ آور ہوئے۔ ان میں سے جن کے حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت مہیا ہو گئے، ان کو پولیس نے مقدمات میں ملزم کی حیثیت سے شامل کیا۔ 

استغاثہ کے نامزد کئے ہوئے ملزموں مین سے بیشتر کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ثبوت کمزور ہونے کی بنا پر بری کر دیا اور صرف انہی کو سزا سنائی گئی جن کے حملوں میں ملوث  ہونے کے پختہ ثبوت عدالت میں ہونے والی جرحوں اور بحثوں میں برقرار رہے۔