سٹی42: عمران خان کو معمر ہونے اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی وجہ سے کم سزا سنائی گئی، سپیشل جج سنٹرل نے توشہ خانہ ٹو کیس کے تحریری فیصلہ میں انکشاف کیا ہے کہ جرائم کی سزا اس سے زیادہ ہو سکتی تھی، جج نے ایک مجرم کے زیادہ عمر کا ہونے اور دوسری مجرم کے خاتون ہونے کی وجہ سے سزاؤں میں قدرے نرمی کی۔
توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ آج اڈیالہ جیل میں سنایا گیا۔ فیصلہ نانے کے ساتھ عدالت کی طرف سے تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا۔ تحریری فیصلہ میں لکھا گیا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا اور دونوں ملزمان خیانت مجرمانہ کے مرتکب پائے گئے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا تحریری فیصلہ سپیشل جج سنترل ارجمند شاہ نے لکھا ہے۔ سپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانے کی سز اسنائی ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان خیانت مجرمانہ کے مرتکب پائے گئے، دونوں ملزمان پر پر جرم ثابت ہوا ہے۔
تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جرم ثابت ہونے پر دفعہ 409 کے تحت 10 سال سزا سنائی گئی جبکہ انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
تحریری فیصلے میں بشریٰ بی بی کو بھی دس سال اور سات سال قید کی سزا گئی۔
دونوں مجرموں کو فی کس 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6، 6 ماہ قید کی سزا ہوگی۔
عدالت کے فیصلے میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی زائد عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کی وجہ سے کم سے کم سزا دی گئی، مجرموں کے عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کر لیا گیا ہے۔