ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جامعہ پنجاب میں مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت کا افتتاح

جامعہ پنجاب میں مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت کا افتتاح
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: جامعہ پنجاب میں  مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت کا باقاعدہ افتتاح رئیسُ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے ربن کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر یادگاری تختی کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ افتتاحی تقریب میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور  معزز مہمانانِ گرامی قدر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

تقریب کا آغاز قومی ترانے، تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں ڈائریکٹر مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت، ڈاکٹر شبیر احمد خان نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مرکز کے قیام کے اغراض و مقاصد سے شرکائے تقریب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کے کردار کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رئیسُ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات معاشرتی اصلاح اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اداروں کے اشتراک سے جامعات رواداری، برداشت اور صبر و تحمل کے فروغ میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ رئیسُ الجامعہ نے عسکری اداروں اور اعلیٰ قیادت کی خدمات کو بھی سراہا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معزز مہمان بریگیڈیئر اسجد بلوچ نے کہا کہ قومی سلامتی اور تحفظ کے لیے تعلیمی اداروں اور قومی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو قوم کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے اساتذہ کی فکری و اخلاقی تربیت میں کردار کو بھی اجاگر کیا۔

کرنل ریحان خان نے اپنے خطاب میں معاشرتی عدم توازن، عدم برداشت اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے جامعات میں جدید تحقیقی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

پیٹرن اور پرو وائس چانسلر جامعہ پنجاب، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ جامعات نہ صرف درس و تدریس کے مراکز ہیں بلکہ مختلف سماجی اور لسانی پس منظر رکھنے والے افراد کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے مراکز بھی ہیں۔

تقریب کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی و صوبائی اداروں اور جامعات کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا جبکہ اُساتذہ اور طلبہ ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تقریب کے آخر میں مہمانانِ گرامی کو چائے، کافی اور اسنیکس کی تواضع بھی کی گئی۔