ویب ڈیسک: پاکستان میں سال 2025 کے دوران گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات آٹو مارکیٹ میں سخت مسابقت، حکومتی ٹیکس ریلیف اور صارفین کی کمزور قوت خرید بتائی جا رہی ہیں۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق مختلف مقامی اور بین الاقوامی کار کمپنیوں نے مارکیٹ میں اپنی فروخت برقرار رکھنے کے لیے قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کئی معروف برینڈز نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی کی، جس کے نتیجے میں آٹو سیکٹر میں پرائس وار کی صورتحال پیدا ہوئی۔
وفاقی بجٹ میں بعض درآمدی گاڑیوں پر کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کی گئی، جس کا براہِ راست فائدہ مہنگی اور امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ کمپنیوں نے یہ ریلیف صارفین تک منتقل کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بلند شرح سود اور آٹو فنانسنگ میں مشکلات کے باعث گاڑیوں کی طلب میں کمی بھی دیکھی گئی، جس نے کار ساز اداروں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کیا۔