سٹی 42: جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کے منٹس پبلک کرنے کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوابی خط لکھ دیا
خط کے متن کے مطابق ججز صاحبان نے لکھا کہ بطور کمیٹی ممبران ہم نے 26ویں ترمیم پر فل کورٹ کا فیصلہ کیا تھا،کمیٹی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیس مقرر نہیں کیا گیا تھا،کیس نہ لگنے پر 4 نومبر کو پھر خط لکھا،ہمارے فیصلے پر چیف جسٹس کے لکھے گئے دونوں نوٹس ہمیں نہیں دیئے گئے،چیف جسٹس نے اپنا نوٹ جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ میں پڑھا، جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر مجاز فورم نہیں تھا،منٹس میں کہا گیا بنچ تشکیل کا معاملہ آئینی بنچ اور آئینی کمیٹی کو بھیجا گیا، اس وقت آئینی بنچ اور آئینی کمیٹی کا وجود ہی نہیں تھا، سوال یہ ہے کہ اجلاس کی کاروائیوں کو اب پبلک کیوں کیا گیا،کاروائی پبلک کرنے کی وضاحت ستمبر میں آئینی بنچ کے دوبارہ فنکشنل ہونے پر واضح ہوگی۔
خط میں بتایا گیا کہ 31 اکتوبر اجلاس کے منٹس واضح کرتے ہیں کہ دونوں ججز کا اجلاس ہوا تھا، فیصلے کے بعد فل کورٹ بنانا لازم تھا اور کوئی اس کو ختم نہیں کرسکتا،چیف جسٹس کو لکھے گئے دو خطوط میں اکثریتی فیصلے کی بے توقیری کی وجہ بتائی گئی،کوشش کے باوجود بھی چیف جسٹس نے آئینی بنچ کے سامنے مقدمات لگانے کا موقف اپنایا،ملاقات میں چیف جسٹس فل کورٹ کی تشکیل پر ہچکچاہٹ کا شکار رہے،چیف جسٹس نے معاملے پر ایک گھنٹے بعد دوبارہ ملاقات کا کہا،ایک گھنٹے بعد چیف جسٹس جسٹس منیب کے چیمبر میں آئے، چیف جسٹس نے تمام ججز سے انفرادی طور پر ملاقات کا بتایا،ہم نے چیف جسٹس کے انفرادی رائے لینے کو قانون اور پریکٹس کے برعکس قرار دیاججز سے انفرادی طور پر لی گئی رائے کی کوئی حیثیت نہیں،چیف جسٹس کی رائے کے بعد قانونی طور پر کمیٹی اجلاس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،نوٹس کے باوجود چیف جسٹس اجلاس کی کاروائی میں شامل نہ ہوئے،اکثریت کی بنیاد پر ہم نے 4 نومبر کو فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ دیا۔
خط میں لکھا کہ فل کورٹ کیلئے رجسڑار کو بھی ہدایات جاری کردی گئیں، کمیٹی اجلاس کے فیصلے پر چیف کا لکھا گیا نوٹ ہمیں نہیں دیا گیا،4 نومبر کو خط کے باوجود بھی فل کورٹ تشکیل نہیں دی گئی،جوڈیشل یا انتظامی طور پر فل کورٹ تشکیل کیلئے ہم نے بہت کوشش کی۔
خط میں ایک مرتبہ پھر 26ویں ترمیم پر فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے




