سٹی42: بھارت کی ریاست دہلی کی خاتون وزیر اعلیٰ پر حملے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔ حملے کی وجہ کتے نکلے۔
ریکھا گپتا پر حملہ کرنے والا بمشکل قابو میں آیا، اس نے وزیراعلیٰ کو تھپڑ مارنے کے ساتھ بال بھی پکڑ کر کھینچے۔
اب تک سامنے آنے والی تفاصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ کرنے والا پڑھا لکھا مہذب شہری ہے اور اسے دہلی حکومت کی بے گھر کتوں کو اندھا دھند مارنے کی پالیسی سے اختلاف تھا۔
ملزم کی ماں کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر کتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر مایوس ہو کر دہلی گیا تھا۔ وہ کئی سال سے پڑوسیوں سے روٹیاں اکٹھا کر کے کتوں کو کھلاتا تھا۔
آج صبح دہلی کے چیف منسٹر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر حملہ کرنے والے کو اسی وقت حراست میں لیا جا چکا ہے اور اس سے پولیس پوچھ تاچھ بھی کر رہی ہے۔
دھیرے دھیرے اس ملزم سے متعلق کئی طرح کی معلومات سامنے آ رہی ہیں اور یہ بھی خبر سامنے آئی ہے کہ ملزم نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو صرف تھپڑ ہی نہیں مارا، بلکہ انھیں دھکا بھی دیا اور بال بھی پکڑ کر کھینچے۔ ملزم پر وہاں موجود لوگوں نے بمشکل قابو پایا۔
ملزم نے وزیر اعلیٰ پر حملہ کیوں کیا، اس سلسلے میں پولیس تحقیقات سے کیا سامنے آیا، مصدقہ طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا رہا ہے لیکن مختلف طرح کی معلومات ضرور سامنے آ رہی ہیں۔
بھارت کے ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ہوئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکھا گپتا جب لوگوں سے مخاطب تھیں، تبھی ایک شخص نے ریکھا گپتا کو پہلے تھپڑ رسید کیا، پھر ان کی طرف جھپٹا اور دھکا دے دیا۔ پیچھے دیوار ہونے کی وجہ سے ریکھا گپتا گرنے سے بچ گئیں، لیکن اس دوران حملہ آور نے ان کے بال پکڑ لیے اور بال کھینچنے لگا۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے ملزم کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ ملزم کے ہاتھوں پر لوگوں نے مارا تاکہ وہ وزیر اعلیٰ کے بال چھوڑ دے۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش میں تقریباً ایک منٹ تک یہ ہنگامہ ہوتا رہا۔
ملزم اینیمل لوور نکلا
بتایا جاتا ہے کہ ملزم ریاست گجرات کے راجکوٹ کا رہنے والا ہے۔ اس کی عمر 41 سال ہے۔ وہ مویشیوں، خصوصاً کتوں سے انتہائی محبت کرتا ہے۔ نیوز آؤٹ لیٹ ’آج تک‘ نے ملزم کے گھر جا کر ان کی ماں سے بات کی۔
راجیش کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا بے گھر کتوں کے متعلق سپریم کورٹ کے حکم سے مایوس ہو کر وہ دہلی گیا تھا۔ وہ کئی سال سے اپنے گھر سے اور پڑوسیوں سے روٹیاں اکٹھی کر کے کتوں کو کھلاتا تھا۔
پڑوسیوں کو یہ بات پتہ تھی اور وہ اس کے گھر پر ہی روٹیاں دے جاتے تھے۔ ملزم ان روٹیوں کو اکٹھا کر کے کتوں اور گایوں کو کھلاتا تھا۔ وہ رکشہ چلانے کا کام کرتا ہے۔
پولیس کی پوچھ تاچھ میں ملزم راجیش کی ماں نے بتایا کہ ان کا بیٹا آوارہ کتوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دہلی پہنچا تھا۔ ماں نے بتایا کہ یہ شخص ذہنی طور سے بیمار ہے اور ماں نے اس کے "مویشی پریمی" ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی دہلی کا سفر کر چکا ہے۔ ملزم ایک رکشہ ڈرائیور فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔
راجکوٹ پولیس ملزم کی ماں کو بھی پوچھ تاچھ کے لیے لے گئی ہے۔ ماں نے بتایا کہ انھیں یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ دہلی جا کر وزیر اعلیٰ کے وہاں جائے گا۔
’آج تک‘ کے مطابق ملزم راجیش کی ماں بھانو بین نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کو معاف کر دیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے کی طرف سے وزیر اعلیٰ سے معافی مانگی۔ ملزم کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا مہادیو کا بھگت ہے۔ وہ اجین جانے کے بارے میں بتا کر گھر سے نکلا تھا۔ وہ مہینے میں ایک بار اجین جاتا تھا، لیکن اجین سے دہلی کب چلا گیا، پتہ نہیں۔
بے گھر/ آوارہ کتوں کا کیا معاملہ ہے، سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا
بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی کی ریاستی حکومت کو ریاست(شہر اور نواحی علاقے) میں موجود لاکھوں آوارہ کتوں کو پکڑنے کے لیے آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔
11 اگست 2025 کو یہ خبر آئی کہ سپریم کورٹ نے کتوں کو پکڑ کر جانوروں کی پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے کیس کا فیصلہ دے دیا ہے۔
بی بی سی نے اس فیصلے پر اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دہلی میں آوارہ کتوں کی آبادی ایک ملین بتائی جاتی ہے۔
بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے دہلی اور اس کے مضافات میں حکام کو حکم دیا کہ وہ تمام آوارہ کتوں کو گلیوں سے جانوروں کی پناہ گاہوں میں منتقل کریں۔
عدالت نے "کتے کے کاٹنے سے ریبیز کے بڑھتے ہوئے خطرے" پر تشویش کا اظہار کیا اور حکام کو یہ کام ختم کرنے کے لیے آٹھ ہفتوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
میونسپل ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی کے آوارہ کتوں کی آبادی کا تخمینہ ایک ملین ہے، مضافاتی بستیوں نوئیڈا، غازی آباد اور گوروگرام (گوڑگاؤں) میں بھی بہت آوارہ کتےہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، بھارت میں لاکھوں آوارہ کتے ہیں اور یہ دنیا میں ریبیز سے ہونے والی کل اموات میں سے 36 فیصد ہ اموات بھارت میں ہو رہی ہیں۔
کیا ہندوستان کے آوارہ کتے دہشت گرد حملوں سے زیادہ لوگوں کو مارتے ہیں؟
قانونی خبروں کی ویب سائٹ لائیو "لا" نے اس فیصلے کی خبر میں عدالت کے حوالے سے کہا، "بچوں اور چھوٹے بچوں کو، کسی بھی قیمت پر، ریبیز کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس فیصلے سے یہ اعتماد پیدا ہونا چاہیے کہ وہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے خوف کے بغیر آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔"
دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں کتے کے کاٹنے کی بڑھتی ہوئی رپورٹوں کے بعد عدالت نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔
سپریم کورٹ کا کتوں کی پناہ گاہیں بنانے کا حکم
عدالت نے ہدایت دی کہ دہلی اور اس کے مضافات میں متعدد پناہ گاہیں قائم کی جائیں، جن میں سے ہر ایک کم از کم 5,000 کتوں کو رکھنے کے قابل ہو۔ ان پناہ گاہوں میں نس بندی اور ویکسینیشن کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انہیں سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہونا چاہیے۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ جراثیم زدہ کتوں کو عوامی علاقوں میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
یہ بھی حکم دیا گیا کہ کتے کے کاٹنے اور ریبیز کے کیسز کی اطلاع کے لیے ایک ہفتے کے اندر ہیلپ لائن قائم کی جائے۔
تاہم جانوروں کی فلاح و بہبود کے گروپوں نے عدالت کی ہدایت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی مقرر کردہ ٹائم لائن غیر حقیقی ہے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے ایک ممتاز گروپ PAWS۔کے بانی، نیلیش بھناگے نے کہا، "زیادہ تر ہندوستانی شہروں میں اس وقت پناہ گاہوں میں آوارہ کتوں کی بحالی کے لیے [ضرورت] صلاحیت کا 1% بھی نہیں ہے،"
حکومتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں ملک بھر میں کتوں کے کاٹنے کے 3.7 ملین رپورٹ ہوئے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ "ہندوستان میں ریبیز کا اصل بوجھ پوری طرح سے معلوم نہیں ہے؛ اگرچہ دستیاب معلومات کے مطابق، یہ ہر سال 18,000-20,000 اموات کا سبب بنتا ہے"۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ریبیز سے 54 اموات ریکارڈ کی گئیں جو کہ 2023 میں 50 تھیں۔
لڑکی کی موت نے بھارت کے 'آوارہ کتوں کے خطرے' کو اجاگر کیا
اگست 2022 میں کیرالہ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 12 سالہ بچی کی موت نے غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
اس سال کیرالہ میں ریبیز سے ہونے والی یہ 21ویں رپورٹ ہوئی موت تھی۔
رپورٹس کے مطابق، اس بچی کو اینٹی ریبیز ویکسین کی تین خوراکیں مل چکی تھیں اور وہ جلد ہی چوتھی خوراک لینے والی تھی۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ریبیز ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر اموات کا سبب ہے اور دنیا میں ریبیز سے ہونے والی اموات کا 36 فیصد ہ انڈیا میں ہے۔