(ویب رپورٹ)بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ میں ایک سے ایک بڑے اور باصلاحیت فنکار ہوئے، اکشے کمار اور ٹائیگر شروف جیسے فنکار ہیں، جو کراٹے میں بلیک بیلٹ ہولڈر ہیں۔ ایسا ہی ایک فنکار تھا، جو بلیک بیلٹ ہولڈر تھا۔ امیتابھ بچن، سنجے دت، اکشے کمار سمیت انڈسٹری کے ہر بڑے فنکار کے ساتھ 300 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ اس اداکار نے زیادہ تر فلموں میں ولن کا ہی کردار نبھایا۔ 1980-90 کی دہائی میں خوب نام کمایا۔ لیکن ذاتی زندگی میں اتار چڑھاؤ اور مدھم پڑتا فلمی کیریئر ایکٹر کو لے ڈوبا۔ 5 شادیاں کرنے کے بعد غربت، تنہائی اور نشے کی لت نے اسکا دردناک انجام ہواٍ۔
بھارت کے اردو چینل کی ویب نیوز کے مطابق کراٹے میں بلیک بیلٹ ہولڈر اس ایکٹر کا نام مہیش آنند ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات ماڈل اور ٹرینڈ ڈانسر کے طور پر کی تھی۔ اداکاری میں آنے سے پہلے وہ 1982 کی فلم 'صنم تیری قسم' کے ٹائٹل ٹریک میں بیک گراؤنڈ ڈانسر کے طور پر نظر آئے تھے، جس میں کمل ہاسن اور رینا رائے مرکزی کردار میں تھے۔ انہوں نے 1984 میں 'کرشمہ' فلم سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اگرچہ ابتدائی رولز پر زیادہ توجہ نہیں گئی، لیکن 1988 کی فلم 'شہنشاہ' سے انہیں اصل پہچان ملی۔مہیش نے کئی بڑی بالی ووڈ فلموں میں کام کیا، جن میں امیتابھ بچن کے ساتھ 'شہنشاہ' اور سنجے دت کے ساتھ 'گمراہ' شامل ہیں۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں وہ سب سے مشہور ولن میں سے ایک بن گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے امیتابھ بچن کی کئی فلموں میں ولن کا کردار ادا کیا، جن میں 'گنگا جمنا سرسوتی' اور 'طوفان' شامل ہیں۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے تقریباً 300 فلموں میں کام کیا اور سنجے دت، اکشے کمار، گووندا، ششی کپور، سنی دیول، ونود کھنہ، سلمان خان جیسے بڑے ستاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کی۔

کامیابی کے باوجود مہیش آنند کی ذاتی زندگی عدم استحکام اور تنہائی سے بھری رہی۔ انہوں نے 5 شادیاں کیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کے درجن بھر خواتین سے معاشقے بھی رہے۔ ان کی پہلی شادی اداکارہ رینا رائے کی بہن برکھا رائے سے ہوئی تھی۔ پھر دونوں کا طلاق ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے سابق مس انڈیا انٹرنیشنل ایریکا ماریا ڈی سوزا سے شادی کی، جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔مہیش آنند نے سال 1999 میں مدھو ملہوترا سے تیسری شادی کی۔ بعد میں انہوں نے اداکارہ اوشا بچانی سے شادی کی، لیکن یہ رشتہ بھی طلاق پر ختم ہو گیا۔ ان کی آخری شادی ایک روسی خاتون لانا سے ہوئی تھی۔ کبھی شہرت کا مزہ چکھنے والے مہیش آنند نے اپنے آخری سال نہایت خراب معاشی حالات میں گزارے۔ 300 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے کے باوجود ان کے پاس بنیادی ضروریات کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔
بالی ووڈ کے اداکار ہیش آنند نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا : "میرے دوست اور سب لوگ مجھے شرابی کہتے ہیں۔ میرا کوئی خاندان نہیں ہے۔ میرے سوتیلے بھائی نے مجھے دھوکہ دیا۔ 6 کروڑ روپے لے کر بھاگ گیا۔ میں نے 300 سے زیادہ فلمیں کی ہیں، لیکن میرے پاس پینے کے پانی کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اس دنیا میں میرا ایک بھی دوست نہیں ہے۔ یہ بہت افسوسناک ہےمہیش آنند نے اپنے فلمی کیریئر کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ پیشہ ورانہ ناکامیوں، ڈپریشن اور شراب کی لت نے ان کی حالت مزید خراب کر دی۔ سال 2019 میں انہوں نے گووندا کی فلم 'رنگیلا راجہ' میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا، جس سے کم بیک کی امید جاگی تھی۔
گووندا کی فلم 'رنگیلا راجہ' کی ریلیز کے صرف 22 دن بعد ہی وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ 9 فروری 2019 کو ان کی لاش صوفے پر ملی، پاس میں شراب کی بوتل اور کھانے کی پلیٹ رکھی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، ان کی موت کو کم از کم تین دن ہو چکے تھے۔ ان کی موت کو قدرتی قرار دیا گیا۔